BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 March, 2008, 06:50 GMT 11:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز، زرداری ملاقات، اہم اعلانات متوقع
نواز شریف، آصف علی زرداری اور مخدوم امین فہیم(فائل فوٹو)
ججوں کی بحالی کے مسئلے پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے: احسن اقبال
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری انفارمیشن احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) میں اشتراک کے اصولوں پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان مری میں ہونے والے ملاقات میں اشتراک اقتدار کا فارمولہ طے پا گیا ہے۔ اس کی باقاعدہ اعلان کچھ دیر بعد متوقع ہے۔

پاکستان ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں جماعتوں میں طے پا گیا ہے کہ حکومت بننے کے تیس دن کے اندر معزول ججوں کو بحال کیا جائے گا۔

احسن اقبال نے بی بی سی اردو سروس سے اتوار کی صبح بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے اٹھارہ فروری کو جمہوری قوتوں کے حق میں ایک واضح مینڈیٹ دیا تھا لیکن ابھی تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیری حربے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

’ججوں کی بحالی پر اتفاق‘
 ’ججوں کی بحالی کی حمایت پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی آ چکی ہے، جہاں تک طریقۂ کار ہے وضح کیا جا رہے اور طریقۂ کار میں بھی اس بات پر اتفاق ہوتا جا رہا ہے کہ اس کو حل کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے
احسن اقبال

انہوں نے کہا کہ ’جنرل مشرف نے کل کہا کہ اجلاس بلانے میں دس سے پندرہ روز لگ سکتے ہیں جبکہ آج سے پانچ روز قبل پی پی پی، پی ایم ایل (نواز) اور اے این پی نے قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کا اظہار کر دیا تھا اور اب پنجاب میں بھی دونوں بڑی جماعتوں نے اپنی اکثریت کا اظہار کر دیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں میں مختلف جماعتیں اپنی اکثریت ظاہر کر چکی ہیں لیکن اس کے باوجود اسمبلیوں کے اجلاس بلانے میں تاخیر ’بدنیتی کا اظہار کر رہی ہے‘۔

’ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بہتر گھنٹوں کے اندر اجلاس بلائے جائیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی اجلاس بلائے جائیں گے حکومت سازی کا آغاز ہو جائے گا اور تمام جمہوری قوتوں کے درمیان مکمل اتفاق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بھی مخلوط حکومت کہیں بھی بنتی ہے ان میں شامل جماعتیں بات چیت کے ذریعے اپنے معاملات طے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح پی پی پی اور پی ایم ایل(ن) میں بھی بات چیت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے۔

’ججوں کی بحالی کی حمایت پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی آ چکی ہے، جہاں تک طریقۂ کار ہے وہ وضح کیا جا رہے اور طریقۂ کار میں بھی اس بات پر اتفاق ہوتا جا رہا ہے کہ اس کو حل کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے‘۔

نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
تیرے آنے کے بعد
نواز شریف کا آناجنرل مشرف کے لیے اچھا یا برا
اسی بارے میں
پی پی کی ترجیحات کا اعلان
22 February, 2008 | پاکستان
صدر کے استعفے کا مطالبہ
25 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد