باجوڑ: قبائلی عمائدین کو انتباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک طالبان نے قبائلی مشران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان خواتین کو جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس جانے دیں جنہوں نے قبائلی روایات کے مطابق گھریلو ناچاقی کے سبب مشران کے ہاں پناہ لے رکھی ہے مگر عمائدین مبینہ طور پر انکو اپنےگھریلو کام کاج کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون کر کے بتایا کہ انہیں باجوڑ ایجنسی میں ایسی شکایات ملی ہیں کہ خاندانی جھگڑوں سے تنگ آنے والی خواتین کی بڑی تعداد نے اپنی زندگیوں کے تحفظ کے غرض علاقے کے قبائلی عمائدین کے ہاں پناہ لے رکھی ہے۔ مگر بقول انکے بعض قبائلی مشران ان خواتین کو اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت کی بجائے انہیں زبر دستی اپنے ساتھ رکھ کر ان سےگھریلو کام کاج لے رہے ہیں۔ ’ہمیں بعض متاثرہ خواتین کے قریبی رشتہ داروں نے شکایت کی ہے کہ قبائلی مشران پناہ لینے والی خواتین کو واپس گھروں کو لوٹنے نہیں دے رہے ہیں۔ بلکہ انکے ساتھ ظلم زیادتی کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے گھریلو خدمات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے ہم نے ان عمائدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ متاثرہ خواتین کوجلداز جلد آزاد کردیں ورنہ انکے خلاف کاروائی کی جائے گی۔‘ مولوی عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی رات کو ایک قبائلی مشر نے انکے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے سانگہ نامی ایک خاتون کو اس عورت کے خاندان والوں کے حوالے کیا ہے جنہیں انہوں نے گزشتہ پینتیس سال سے اپنے گھر رکھا ہوا تھا اور اس سے کام کاج کروا رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں قبائلی عمائدین مزید خواتین کو اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کی اجازت دے دیں گے۔ انکے بقول طالبان اسلام کی رو سے انسانی حقوق کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور خواتین کی بااثر عمائدین کی مبینہ’ قید‘ سے آزاد کرانا اس سلسلےکی ایک کڑی ہے۔ مولوی عمر نے یہ اعلان بھی کیا کہ قبائلی علاقوں میں طالبان کے بھیس میں لوگوں کو اغواء کرنے یا لوٹ مار کرنے والوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو آئندہ گولی مار دی جائے گی۔ انکے بقول بعض گروہ طالبان کے بھیس میں علاقہ کے معاشی طور پر خوشحال افراد کو اغواء کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو بعض افراد نے باجوڑ کے ماموند کے علاقے کے ایک دولتمند شخص تور جان کو اغواء کیا تھا۔ مگر طالبان نے اغواء کاروں کا پیچھا کر کے اس شخص کو بازیاب کرا لیا۔ انہوں نے اغواء کاروں کی گاڑی کو راکٹ لانچر سے تباہ کردیا اور اغواء کار فائرنگ کے تبادلے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان بےگناہ افراد کو اغواء نہیں کرتے بلکہ جب کبھی بھی وہ جاسوسی کے شک میں کسی شخص یا سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اغواء کرتے ہیں تو بعد میں ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ لہٰذا آئندہ کسی بھی گروہ کو لوٹ مار یا اغواء کی واردات میں مبینہ طور پر ملوث پایا گیا توطالبان انکو گولی مار دے گیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ ایجنسی: نقاب پر پابندی13 March, 2008 | پاکستان قبائلی علاقے: عام شہری کی ہلاکتیں14 March, 2008 | پاکستان باجوڑ: طالبان جنگجوؤں کاگشت11 March, 2008 | پاکستان باجوڑ: طالبان نے اہلکار اغوا کر لیے19 November, 2007 | پاکستان سوات:آٹھ سکیورٹی اہلکاروں کےسرقلم27 October, 2007 | پاکستان مہمند ایجنسی: عورت کا سر قلم28 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||