BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 October, 2007, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:آٹھ سکیورٹی اہلکاروں کےسرقلم

مولانا فضل اللہ کے نائب مسلم خان ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں
 مولانا فضل اللہ کے نائب مسلم خان ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ ضلع سوات میں جمعہ کوسکیورٹی فورسز اور مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران آٹھ اہلکاروں کا گلا کاٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

صدر مقام مینگورہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کو مولانا فضل اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے مٹہ اور شکردرہ میں گلا کاٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ مولانا فضل اللہ کے ایک ذمہ دار معاون نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک انسپکٹر اور سات سپاہی شامل ہیں۔


حکام کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی لڑائی میں مولانا فضل اللہ کے ایک مسلح حامی، دو شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں سمیت چودہ افراد ہلاک جبکہ دوشہریوں اور تین مسلح افراد سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

جمعہ کو سکیورٹی فورسز اور مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے مابین چھ گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی کے غیر اعلانیہ طور پر رکنے کے باوجود سنیچر کو بھی فریقین کے درمیان تاحال مذاکراتی عمل شروع نہیں ہوسکا ہے۔

امام ڈھیرئی مرکز کے نائب امیر مسلم عبدالرشید نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سنیچر کی صبح ایک اعلیٰ فوجی افسر نے ان کے ساتھ رابطہ کرکے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم ان کے بقول یہ ایک غیر رسمی رابطہ تھا جس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ ان کے بقول’ ہم نہ صرف سوات میں بلکہ پورے پاکستان میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں جس کے لیے مسلح جدوجہد سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا‘۔

امام ڈھیرئی پر کنٹرول
 امام ڈھیرئی اور ملحقہ علاقہ اس وقت مکمل طور پر مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے کنٹرول میں ہے جو علاقے میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں

ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ کےامام ڈھیرئی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سنیچر کوحالات گزشتہ روز کے مقابلے میں نسبتاً پر امن رہے تاہم تحصیل کبل میں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور تحصیل مٹہ میں بھی ایک کھلے میدان میں زورداردھماکہ کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی
ہیں۔ ان دونوں واقعات میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

امام ڈھیرئی اور ملحقہ علاقہ اس وقت مکمل طور پر مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے کنٹرول میں ہے جو علاقے میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایئر پورٹ اور آس پاس کے پہاڑوں پر واقع چیک پوسٹوں میں چوکس دکھائی دیئے تاہم وہ عوامی مقامات اور سڑکوں پر بہت ہی کم نظر آئے۔

سنیچر کی دوپہر کو حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مولانا فضل اللہ کے زیر کنٹرول علاقے پر پشتو اور اردو زبانوں میں پمفلٹ گرائے گئے جس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سوات میں قیام امن کے لیے مبینہ شرپسندوں کے خلاف حکومتی کارروائی میں حکومت کا ساتھ دیں۔

پمفلٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ’ عوام حکومت کا ساتھ دیں تاکہ سوات کو مبینہ دہشت گردوں سے پاک کیا جاسکے اور حالیہ حکومتی کاروائی کا مقصد لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے‘۔ پمفلٹ کے مطابق سوات میں قاضی عدالتوں کا قیام اور’ شریعت کا نفاذ‘ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

News image
 عوام حکومت کا ساتھ دیں تاکہ سوات کو مبینہ دہشت گردوں سے پاک کیا جاسکے اور حالیہ حکومتی کاروائی کا مقصد لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے
حکومت کا پمفلٹ

ادھر مولانا فضل اللہ کی غیر موجودگی میں ان کے نائب مولانا شاہ دوران نے ایک روز کے وقفے کے بعد غیر قانونی ایف ایم چینل کی نشریات دوبارہ شروع کردی ہیں۔اپنی تقریر کے دوران وہ اپنے مسلح ساتھیوں اور حامیوں کو جنگی حالت سے نمٹنے کے لیے مختلف ہدایات دیتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد ثابت قدم رہیں کیونکہ بقول ان کے انہیں ایک طویل جدوجہد کا سامنا ہے۔

گزشتہ روز سے جاری کشیدگی کے سلسلے میں حکومتی مؤقف جاننے کے لیےضلع سوات کے اعلی اہلکاروں سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بارہا رابطے کی کوشش کی گئی اور انکے دفاتر اور رہائش گاہوں کا دورہ کرنے کے باوجود انہیں وہاں نہیں پایا۔ ضلعی رابطہ افسر کے دفتر میں مینگورہ کے مختلف علاقوں کے عوامی نمائندوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ گزشتہ چند ماہ سے مقامی انتظامیہ تقریباً مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔

یونین کونسل کبل کے ناظم محمد حسین ایڈوکیٹ نے بتایا: ’سوات میں گزشتہ کچھ عرصے سے تحصیل اور ضلع ناظمین کے دفاتر بند پڑے ہیں اور تمام معاملات سوات کی بجائے پشاور سے حل کیے جارہے ہیں‘۔

دوسری طرف باجوڑ میں مقامی طالبان کے کمانڈر مولانا فقیر محمد نے سوات کی حالیہ صورتحال پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل اللہ کے خلاف مبینہ حکومتی کارروائی ختم نہ ہونے تک باجوڑ میں امن و امان قائم کرنے کے لیے مصالحتی جرگے سے بات چیت نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی و شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند ایجنسی اور سوات میں سرگرم مبینہ طالبان کا ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ رابطہ ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر مولانا فضل اللہ کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے سوات پہنچ سکتے ہیں۔

عینی شاہدین
لوگ مدد کے لیے چیختے چلاتےرہے
سوات میں تشدد
سوات شدت پسندوں کا فرنٹ لائن کیسے بنا؟
سوات ہلاکتیں
ایف سی کے قافلے پر حملے میں کئی ہلاک
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
اسی بارے میں
سوات میں لڑائی تھم گئی
26 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد