’امریکیوں پر حملے جاری رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے فائربندی کے مطابق صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے بندکرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف ان کی کارروائیاں بغیر کسی وقفہ کے جاری رہیں گی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے اتوار کو بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ چند روز قبل تنظیم نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وزیرستان سے لے کر سوات تک پاکستانی فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری جنگ بند کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ’مجاہدین’ افغانستان جا کر امریکیوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھیں گے‘۔ مولوی عمر نے ایک امریکی اہلکار کے اس بیان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن اور طالبان امیر مولا عمر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی امریکیوں کے خلاف جنگ تو افغانستان میں ہورہی ہے وہ قبائلی علاقوں میں کیا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اہلکار کے بیان کا مقصد قبائلی علاقوں کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ کی طرف سے بار بار اس قسم کے بیانات جاری کرنے کا مقصد قبائلی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھولنا ہے تاکہ ان کے بقول افغانستان میں امریکی فوج کی ’مجاہدین‘ کے ہاتھوں شکست سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے۔ |
اسی بارے میں دراندازی سے تنگ آچکے ہیں: کرزئی08 December, 2006 | آس پاس حملے غیرافغانیوں کا کام ہیں: کرزئی09 August, 2007 | آس پاس سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ بندی06 February, 2008 | پاکستان وزیرستان: فائربندی کی اطلاعات 03 February, 2008 | پاکستان اہلکاروں کی ہلاکت پر طالبان وضاحت02 February, 2008 | پاکستان خود کش حملےمیں پانچ ہلاک01 February, 2008 | پاکستان سکاؤٹس قلعوں پر طالبان کے حملے30 January, 2008 | پاکستان گھر پر میزائل لگنے سے بارہ ہلاک29 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||