BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکیوں پر حملے جاری رہیں گے‘

طالبان (فائل فوٹو)
امریکہ دنیا کی توجہ طالبان کے ہاتھوں اپنی شکست سے ہٹانا چاہتا ہے
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے فائربندی کے مطابق صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے بندکرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف ان کی کارروائیاں بغیر کسی وقفہ کے جاری رہیں گی۔


تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے اتوار کو بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ چند روز قبل تنظیم نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وزیرستان سے لے کر سوات تک پاکستانی فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری جنگ بند کر رہے ہیں۔

’بدنام کرنے کی کوشش‘
اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی امریکیوں کے خلاف جنگ تو افغانستان میں ہورہی ہے وہ قبائلی علاقوں میں کیا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اہلکار کے بیان کا مقصد قبائلی علاقوں کو بدنام کرنا ہے۔
طالبان ترجمان
ان کے مطابق ’یہ جنگ بندی صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کی حد تک ہے اس کا امریکیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری امریکیوں کے خلاف جاری لڑائی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ ہر صورت میں جاری رہے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ’مجاہدین’ افغانستان جا کر امریکیوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھیں گے‘۔

مولوی عمر نے ایک امریکی اہلکار کے اس بیان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن اور طالبان امیر مولا عمر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی امریکیوں کے خلاف جنگ تو افغانستان میں ہورہی ہے وہ قبائلی علاقوں میں کیا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اہلکار کے بیان کا مقصد قبائلی علاقوں کو بدنام کرنا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ کی طرف سے بار بار اس قسم کے بیانات جاری کرنے کا مقصد قبائلی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھولنا ہے تاکہ ان کے بقول افغانستان میں امریکی فوج کی ’مجاہدین‘ کے ہاتھوں شکست سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے۔

مولانا فقیرامن و امن کی شرط
وردی نہیں خارجہ پالیسی میں تبدیلی چاہیے
مشرف اور سکیورٹی
شدت پسندی کی سیاسی مقابلے کا امکان
سواتطالبان کی روپوشی
سوات: طالبان کی روپوشی سے اٹھنے والے سوالات
اسی بارے میں
خود کش حملےمیں پانچ ہلاک
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد