BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 February, 2008, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ بندی

پاکستان فوج
قبائلی علاقے میں فوج کی کارروائیوں میں ذرا نرمی آئی ہے
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے وزیرستان سے لیکر سوات تک تمام علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان تحریک طالبان پاکستان کے مطابق حکومت کی جانب سے وزیرستان اور سوات میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں نرمی کے بعد کیا جا رہا ہے۔

تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے وضاحت کی کہ ’ ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے لڑنا نہیں چاہتا تو ہم بھی ان سے نہیں لڑیں گے لیکن اگر کوئی ہم پر جنگ مسلط کرے گا تو پھر ہم بھی ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔‘

فائر بندی کا جواب فائر بندی
سن 2005 میں بھی بیت اللہ محسود اور فوج کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا
ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے لڑنا نہیں چاہتا تو ہم بھی ان سے نہیں لڑیں گے لیکن اگر کوئی ہم پر جنگ مسلط کرے گا تو پھر ہم بھی ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے
طالبان ترجمان مولوی عمر

ترجمان نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ حکومت اور مقامی طالبان کے مابین خفیہ مذاکرات کے بعد ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی اس کی وضاحت کی تھی کہ اگر حکومت یا فوج قبائلی علاقوں میں اپنی کارروائیاں بند کرتی ہیں تو پھر وہ بھی سکیورٹی فورسز یا کسی حکومتی اہلکار کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

مولوی عمر کے بقول گزشتہ کچھ دنوں سے وزیرستان اور سوات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کافی حد کمی واقع ہوئی ہے اور طالبان کے خلاف جاری آپریشن میں پہلے جیسے شدت نہیں رہی لہذا وہ بھی اگلے اعلان تک کسی سکیورٹی اہلکار پر کوئی حملہ نہیں کرینگے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے ذرائع ابلاغ میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت اور مقامی طالبان کے مابین غیر اعلانیہ طورپر فائر بندی ہوچکی ہے جبکہ اس سلسلے میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔ تاہم فوج کے ترجمان نے اسکی تردید کی تھی۔

درہ آدم خیل
درہ آدم خیل میں طالبان سے چھینا ہوا اسلحہ

اس کے علاوہ وزیرستان میں سرکردہ قبائلی ملک سینیٹر صالح شاہ نے بھی تین دن قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان اور حکومت کے مابین عارضی فائر بندی طے پا گئی ہے۔

دوسری طرف ڈیرہ اسماعیل خان میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے دلاور خان وزیر نے علاقے میں اچانک فائر بندی کے حوالے سے ڈیرہ اسماعیل خان میں محسود امن کمیٹی کے سربراہ امیر زمان محسود سے بات کی ہے جو کہتے کہ اس وقت وہ محسود قبائل کے بچوں اور خواتین کے سر چھپانے کے لیے جگہ ڈھونڈنے میں مصروف ہے۔ان کو یہ علم نہیں ہے کہ فوج کیا کر رہی ہے یا طالبان کیا کرہے ہیں۔ان کے مطابق اس خبر سے محسود قبائل بے خبر ہے۔البتہ ان کے علم یہ بات ضرور ہے کہ چند دن پہلے فائربندی ہوئی تھی۔

مشرفمشرف نے’نہ‘ کر دی
’قبائلی علاقے میں امریکی کردار کی پیشکش رد‘
مولانا فقیرامن و امن کی شرط
وردی نہیں خارجہ پالیسی میں تبدیلی چاہیے
مشرف اور سکیورٹی
شدت پسندی کی سیاسی مقابلے کا امکان
 سوات وزیرستان کا راستہ
کیا سوات دوسرا وزیرستان بننے جا رہا ہے؟
سواتسوات آپریشن
طالبان فرار لیکن لوگوں میں عدم تحفظ برقرار
سوات کے رہائشی(فائل فوٹو)’واپسی کا خوف‘
امام ڈھیری گاؤں کے رہائشی بےیقینی کا شکار
سواتطالبان کی روپوشی
سوات: طالبان کی روپوشی سے اٹھنے والے سوالات
اسی بارے میں
خود کش حملےمیں پانچ ہلاک
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد