سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے وزیرستان سے لیکر سوات تک تمام علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان تحریک طالبان پاکستان کے مطابق حکومت کی جانب سے وزیرستان اور سوات میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں نرمی کے بعد کیا جا رہا ہے۔ تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے وضاحت کی کہ ’ ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے لڑنا نہیں چاہتا تو ہم بھی ان سے نہیں لڑیں گے لیکن اگر کوئی ہم پر جنگ مسلط کرے گا تو پھر ہم بھی ان کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔‘
ترجمان نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ حکومت اور مقامی طالبان کے مابین خفیہ مذاکرات کے بعد ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی اس کی وضاحت کی تھی کہ اگر حکومت یا فوج قبائلی علاقوں میں اپنی کارروائیاں بند کرتی ہیں تو پھر وہ بھی سکیورٹی فورسز یا کسی حکومتی اہلکار کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ مولوی عمر کے بقول گزشتہ کچھ دنوں سے وزیرستان اور سوات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کافی حد کمی واقع ہوئی ہے اور طالبان کے خلاف جاری آپریشن میں پہلے جیسے شدت نہیں رہی لہذا وہ بھی اگلے اعلان تک کسی سکیورٹی اہلکار پر کوئی حملہ نہیں کرینگے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ذرائع ابلاغ میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ حکومت اور مقامی طالبان کے مابین غیر اعلانیہ طورپر فائر بندی ہوچکی ہے جبکہ اس سلسلے میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔ تاہم فوج کے ترجمان نے اسکی تردید کی تھی۔
اس کے علاوہ وزیرستان میں سرکردہ قبائلی ملک سینیٹر صالح شاہ نے بھی تین دن قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان اور حکومت کے مابین عارضی فائر بندی طے پا گئی ہے۔ دوسری طرف ڈیرہ اسماعیل خان میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے دلاور خان وزیر نے علاقے میں اچانک فائر بندی کے حوالے سے ڈیرہ اسماعیل خان میں محسود امن کمیٹی کے سربراہ امیر زمان محسود سے بات کی ہے جو کہتے کہ اس وقت وہ محسود قبائل کے بچوں اور خواتین کے سر چھپانے کے لیے جگہ ڈھونڈنے میں مصروف ہے۔ان کو یہ علم نہیں ہے کہ فوج کیا کر رہی ہے یا طالبان کیا کرہے ہیں۔ان کے مطابق اس خبر سے محسود قبائل بے خبر ہے۔البتہ ان کے علم یہ بات ضرور ہے کہ چند دن پہلے فائربندی ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں جنوبی وزیرستان: دو دن سے خاموشی04 February, 2008 | پاکستان وزیرستان: فائربندی کی اطلاعات 03 February, 2008 | پاکستان اہلکاروں کی ہلاکت پر طالبان وضاحت02 February, 2008 | پاکستان مردان میں مسلح تصادم، پانچ ہلاک02 February, 2008 | پاکستان خود کش حملےمیں پانچ ہلاک01 February, 2008 | پاکستان سکاؤٹس قلعوں پر طالبان کے حملے30 January, 2008 | پاکستان گھر پر میزائل لگنے سے بارہ ہلاک29 January, 2008 | پاکستان ’درے سے شدت پسندوں کا صفایا‘29 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||