BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 February, 2008, 10:21 GMT 15:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مردان میں مسلح تصادم، پانچ ہلاک

پشاور ہسپتال
زخمی پولیس والوں کو پشاور میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا
صوبہ سرحد کے ضلع مردان میں پولیس اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپ میں دو پولیس اہلکاروں اور تین شدت پسندوں سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ دو اہلکاروں اور ایک خاتون کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری طرف مردان میں پہلی مرتبہ مقامی طالبان نے منظر عام پر آنے کا دعوی کرتے ہوئے لڑائی میں اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

مردان کے ناظم حمایت اللہ مایار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان سنیچر کی صبح پانچ بجے شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور پلو ڈیرئی کے علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا ہے جو دوپہر تک جاری رہا۔

انکے بقول لڑائی کے دوران تھانہ چرئی کے ایس ایچ او اشفاق خان، ہیڈ کانسٹیبل فیض اللہ ہلاک جبکہ اے ایس پی اور ایک اور سپاہی زخمی ہوگئے ہیں۔اے ایس پی پرویز عمرانی کو شدید زخمی حالت میں پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

مردان کے پولیس سربراہ عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی کے دوران تین مبینہ شدت پسند مارے گئے ہیں اور ان کے قبضے سے کلاشنکوف اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔

اہم کاروباری شہر
 صوبائی دارالحکومت پشاور سے سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ضلع مردان کو آبادی اور کاروباری لحاظ سے ایک اہم شہر سمجھا جاتا ہے جس کی سرحد شورش زدہ علاقے سوات، بونیر، پشاور اور صوابی سے ساتھ ملتی ہے

انکے بقول لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب پولیس نے پلوڈیرئی کے علاقے سپنکئی میں بعض مبینہ شدت پسند کی ایک گھر میں موجودگی کی اطلاع پر اس مکان پر چھاپہ مارنے کی کوشش کی کہ اس دوران وہاں سے فائرنگ شروع ہوگئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ شدت پسند اس وقت ہلاک ہوا جب ایک پولیس اہلکار نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی کہ اس دوران اسکے ہاتھ میں دستی بم پھٹ گیا۔ عینی شاہدوں نے بتایا کہ اس مکان میں جہاں پر مبینہ شدت پسند محصور تھے قریب ہی واقعے ایک اور گھر میں گولی لگنے سے ایک عورت زخمی ہوگئی ہے جسے مردان کے سول ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف مولانا عبداللہ نامی ایک شخص نے مردان کے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون کرکے خود کو مقامی طالبان کا ترجمان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی کے دوران ان کے دو ساتھی ہلاک ہوگئے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ سنیچر کی صبح سویرے دو مسلح طالبان اپنے گھر میں موجود تھے کہ پولیس نے ان پر حملہ کردیا۔

مولانا عبداللہ کے دعوی کے مطابق مردان کے مقامی طالبان تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی سربراہی میں گزشتہ ایک سال سے خفیہ طور پر سرگرم عمل ہیں تاہم مردان کے سیف اللہ نامی شخص درہ آدم خیل کے کمانڈر عبدالجبار کی ہدایات پر ان کے تنظیمی امور چلارہے ہیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اس تازہ جھڑپ کے بعد اب وہ حکومت کے خلاف باقاعدہ کاروائیاں کریں گے اور جب تک قبائلی علاقوں سے فوج بیدخل نہیں ہوتی تب تک وہ اپنی کاروائیوں کو جاری رکھیں گے۔

انہوں نے گزشتہ ایک سال سے مردان میں سی ڈیز فروخت کرنے والی دکانوں کو بم حملوں کا نشانہ بنائے جانے سے متعلق کوئی واضح جواب نہیں دیا البتہ کہا کہ وقت آنے پر اس بارے میں بات کی جائے گی۔

اس سے دو ہفتے قبل بھی مردان کے اسی علاقے میں پولیس اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان تقریباً آٹھ گھنٹے تک لڑائی ہوئی تھی جس میں فریقین کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

صوبائی دارالحکومت پشاور سے سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ضلع مردان کو آبادی اور کاروباری لحاظ سے ایک اہم شہر سمجھا جاتا ہے جس کی سرحد شورش زدہ علاقے سوات، بونیر، پشاور اور صوابی سے ساتھ ملتی ہے۔

مردان میں پچھلےدو سال سے کئی مرتبہ سی ڈیز فروخت کرنے والی دکانوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔گزشتہ کچھ عرصے سے تشدد سے قدرے محفوظ صوبہ سرحد کے اس شہر میں مبینہ شدت پسندوں کا منظر عام پرآنے اور پولیس اہلکاروں سے باقاعدہ جھڑپوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں
القاعدہ کے اہم رہنما ہلاک
31 January, 2008 | پاکستان
خود کش حملےمیں پانچ ہلاک
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد