القاعدہ کے اہم رہنما ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی ممالک میں انسداد دہشت گردی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے ایک اہم رہنما ابو الليث الليبي ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابواللیث اللیبی کی ہلاکت کی خبر ایک اسلامی ویب سائٹ ’اخلاص ڈاٹ آرگ‘ پر شائع ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ’جام شہادت نوش‘ کر لیا ہے۔ امریکی حکام نے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے سرگرم رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ابو للیث اللیبی کی امریکی خفیہ ادارے کافی عرصے سے نگرانی کر رہے تھے اور ان کے بارے میں زیادہ تر معلومات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ واشنگٹن میں حکام نے ان کی ہلاکت کے بارے میں کوئی بات کرنے سے انکار کررہ ہیں۔ تاہم یہ خیال کیا جا رہا کہ تین روز قبل پاکستان کے قبائل علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک گھر پر بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والے جہاز کے ذریعے داغے جانے والے میزائل حملے میں ابو اللیث اللیبی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں ایک درجن کے قریب شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان میں ایک انگریزی روزنامے کے مطابق اس حملے کا نشانہ اللیبی اور القاعدہ کے ایک اور اعلی شخصیت عبیدہ المصری تھے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق انہیں اللیبی کی ہلاکت کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہےکہ انہیں اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ منگل کے روز پاکستانی ذرائع نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں خوشحالی میں ایک مکان پر ’نامعلوم‘ سمت سے فائر کیےجانے والے میزائل حملے میں بارہ شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ مغربی ذرائع کے مطابق لیبیائی نژاد ابو الليث الليبي القاعدہ تنظیم کی درجہ بندی میں اسامہ بن لادن اور ایمن الظہوری کے بعد اہم رہنماؤں میں تصور کیےجاتے تھے۔ اکتالیس سالہ ابو الليث الليبي کو القاعدہ تنظیم کے تربیتی اور عملی منصوبہ بندی کےشعبے میں اہم حثیت حاصل تھی۔ ابو الليث الليبي القاعدہ کی کئی ویڈیو میں ظاہر ہو چکے ہیں اور وہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم عمل تھے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اللیبی کی ہلاکت علامتی طور پر اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے کے حوالے سے القاعدہ کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ | اسی بارے میں گھر پر میزائل لگنے سے بارہ ہلاک29 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||