BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: فائربندی کی اطلاعات

جنوبی وزیرستان
مقامی طالبان نےگزشتہ ماہ جنوبی وزیرستان میں سکاؤٹس کے دو قلعوں پر قبضہ کر لیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اطلاعات کےمطابق حکومت اور بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے مابین عارضی فائر بندی ہوگئی ہے۔ تاہم فوج کے ترجمان نے علاقے میں کسی قسم کی فائر بندی کی تردید کی ہے۔

سرکردہ قبائلی ملک سینیٹر صالح شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ جنوبی وزیرستان میں حکومت اور بیت اللہ گروپ کے مابین عارضی فائر بندی طے پاگئی ہے۔

تاہم اس سلسلے میں ابھی تک سرکاری اعلان نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد زیادہ تر علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ بھی بند ہوگیا ہے۔

سینیٹرصالح شاہ نے بتایا کہ ’مجھے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کچھ علم نہیں اور نہ تاحال بات چیت کےلیئے ماحول سازگار دکھائی دیتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ علاقے میں فائر بندی کےلیئے پہلے سے کوششیں ہو رہی تھیں۔ اس سلسلے میں جب پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جنوبی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے مابین فائربندی کی تردید کی۔

ترجمان نے واضح کیا کہ’بعض اوقات سکیورٹی فورسز اپنی پوزیشنیں مستحکم کرنے کےلیئے خود فائرنگ کا سلسلہ بند کرتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شدت پسندوں کے ساتھ معاہدہ کے بعد فائرنگ بند کی گئی ہے۔‘

ادھر مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں فائر بندی کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملوں میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اتوار کو محسود کے علاقہ میں کسی جگہ سے فائرنگ کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

گزشتہ ماہ جنوبی وزیرستان میں سکاؤٹس کے دو قلعوں پربیت اللہ گروپ کے مقامی شدت پسندوں کے قبضے اور سکیورٹی اہلکاروں کی چیک پوسٹوں اور قافلوں پر متعدد حملوں کے بعد حکومت نے محسود کے علاقے میں آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید لڑائی کے باعث زیادہ تر لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا تھا۔

اسی بارے میں
خود کش حملےمیں پانچ ہلاک
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد