’القاعدہ سے بات چیت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے امریکی حکام پر واضح کیا ہے کہ صوبہ سرحد میں امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومت مقامی جنگجوؤں سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گی جبکہ القاعدہ سے منسلک یا غیر ملکی شدت پسند اس پالیسی کا حصہ نہیں ہوں گے۔ یہ بات اسفند یار ولی نے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر سے کہی جنہوں نے آج ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر موجود عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ نے ان کی جماعت کے رہنما کے ساتھ صوبہ سرحد اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ زاہد خان نے بتایا کہ اسفندیار ولی نے اس موقع پر اپنی جماعت کے مؤقف سے امریکی خارجہ امور کے افسر کو آگاہ کیا کہ تمام اہم معاملات پر پارلیمنٹ سے راہنمائی کہ بعد پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک قبائلی علاقوں کا تعلق ہے تو وہ چونکہ وفاق کے انتظامی کنٹرول میں ہیں لہذا وہاں مرکزی حکومت کی پالیسی چلے گی لیکن صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں میں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ زاہد خان نے بتایا کہ اسفند یار ولی نے امریکی وفد پر واضح کیا کہ ان کی جماعت ان شدت پسندوں سے مذاکرات کرنے کی پالیسی پر عمل کرے گی جنہیں عام زبان میں مقامی طالبان کہا جاتا ہے البتہ القاعدہ یا غیر ملکی جنگجو اس پالیسی حصہ نہیں ہوں گے۔ زاہد خان کا کہنا تھا کہ رچرڈ باؤچر نے اسفندیار ولی کے اس مؤقف کی حمایت کی۔ بعد ازاں اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی نائب وزیر رچرڈ باؤچر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پارلیمنٹ کا فیصلہ امریکہ کو قابل قبول ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے دیرینہ روابط ہیں اور امریکہ پاکستانی عوام کے جذبات کی قدر کرتا ہے اور اسی بنا پر نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت چلانے کے لئے کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائے گی۔ اس سوال پر کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اب تک تو صدر پرویز مشرف کی پالیسیاں چلتی رہی ہیں، زاہد خان نے کہا کہ یہ بات ماضی کی ہے۔ ’آپ نے پچیس مارچ کو دیکھا کہ وزیراعظم کے حلف لینے کے فوراً بعد تمام ججوں کو رہا کر دیا گیا۔ یہی پالیسیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔‘ | اسی بارے میں ’شدت پسندوں سے مذاکرات کریں گے‘22 March, 2008 | پاکستان سوات کا حل مذاکرات ہیں: ہوتی04 March, 2008 | پاکستان باؤچرکی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں 25 March, 2008 | پاکستان ’دورے کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں‘27 March, 2008 | پاکستان امریکی وفد کی ججوں سے ملاقات27 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||