’دورے کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے نے کہا ہے کہ ان کے پاکستان آنے کا مقصد کسی خفیہ ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی امریکہ پاکستان کے سیاسی عمل میں مداخلت کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک مقامی ہوٹل میں جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ بریفنگ کے دوران امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ رچرڈ باؤچر اور امریکی قونصلیٹ کے دیگر اہلکار بھی موجود تھے، جبکہ ہوٹل میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پاکستان میں اپنے دورے کے تیسرے اور آخری روز جان نیگرو پونٹے اور رچرڈ باؤچر اسلام آباد سے جمعرات کی صبح کراچی پہنچے تھے جہاں انہوں نے سندھ کے گورنر عشرت العباد، سٹی ناظم مصطفٰی کمال، اور امریکی بزنس کونسل کے ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والی پریس بریفنگ میں جان نیگرو پونٹے نے کراچی میں اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاک امریکہ اشتراک کار مضبوط رہے گا اور ہم اسے ایک ایسے مسلسل، قریبی اور مفید اتحاد کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے تمام رہنماؤں کے ساتھ مل کر تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف لڑائی سے لے کر تعلیمی اور اقتصادی مواقع سمیت تمام دو طرفہ امور پر کام کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں جان نیگرو پونٹے نے کہا کہ ’جہاں تک میرے دورے کی ٹائمنگ کی بات ہے تو میرا یہ دورہ چھ سے آٹھ ہفتے قبل ترتیب دیا گیا تھا اور یہ میرے مسلسل دوروں کا حصہ ہے کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں پاک امریکہ تعلقات کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں۔ اس وقت میرا آنا مجھ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ میں پاکستان کو انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دوں اور اس بات کا اعادہ کروں کہ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ مضبوط دوستی ہے۔ اس دورہ کا ہرگز کوئی خفیہ ایجنڈہ نہیں ہے اور یقیناً ہم یہ خواہش بھی نہیں رکھتے کہ جو سیاسی عمل چل رہا ہے اس میں کسی بھی طرح سے مداخلت کریں۔‘ قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں سے بات چیت شروع کرنے پر جب ان کی رائے معلوم کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’شدت پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں مشترکہ حکمتِ عملی یہ ہی ہوتی ہے کہ ایسے مسائل پر ہمہ جہتی سوچ کے ذریعے قابو پایا جائے۔ ایسے افراد جو ہم سب کی زندگیوں کو تباہ کر رہے ہیں ان سے کیونکر بات چیت کی جاسکتی ہے؟ تاہم ایسے عناصر بھی موجود ہیں جن سے بات چیت ممکن ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ان کو جمہوری عمل میں شرکت کرنے کے لئے مائل کیا جاسکتا ہے۔‘ جان نیگروپونٹے نے کہا کہ فاٹا کے علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ ان کا معیارِ زندگی بلند کیا جائے۔ انہوں نےکہا کہ امریکہ اس سلسلے میں پاکستان کو ایک سو پچاس ملین ڈالر سالانہ امداد دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک امریکی حکومتیں مختص کیے گئے فنڈ سے وہاں اشد ضروری سڑکیں اور اسکول تعمیر کر رہی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، شدت پسندی اور دیگر معاملات کو امریکہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ اتفاق کے ساتھ ہی حل کرنا چاہتا ہے۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مسائل دو طرفہ تعاون کے بغیر یک طرفہ حل نہیں کیے جانے چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ ان مسائل کو ختم کرنے کے لیے اچھے تعلقات رکھے، چاہے وہ سیکیورٹی امور میں تعاون کے ذریعے ہوں یا معاشی طور سے تعاون کے ذریعے اور ہم اسی تعاون کے ساتھ ہی مسائل کی وجوہات جاننے کے بعد ان کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر اقتصادی نمو کو فروغ دینے اور غربت کو کم کرنے کے کاموں میں شرکت کرنے کے لیے تیار ہے اور امریکہ پاکستان کے عوام کو محفوظ، خوشحال اور آزاد معاشرہ کی تعمیر میں مدد دیتا رہے گا۔ |
اسی بارے میں امریکیوں کی ملاقاتیں جاری26 March, 2008 | پاکستان امریکی اہلکار کراچی پہنچ گئے27 March, 2008 | پاکستان قبائل کو طالبان کی دھمکی27 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||