امریکی وفد کی ججوں سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے اراکین کے ایک وفد نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ان کے گھر پر ملاقات کی۔ ملاقات میں نو مارچ سنہ دو ہزار سات میں ان کے خلاف دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس اور تین نومبر سنہ دو ہزار سات میں پاکستان میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس وفد کی قیادت امریکی کانگریس مین جان ایف ٹئیرنی کر رہے تھے۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران پشاور ہائی کورٹ کے معزول ججز جن میں طارق پرویز، شاہ جہان خان، اعجاز افضل اور دوست محمد خان کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن اور جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود بھی موجود تھے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے امریکی سینٹرز کو پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا ہے کہ امریکی سینٹرز کو بتایا گیا کہ تین نومبر کے اقدامات غیر آئینی تھے اور ان کی بحالی کے لیے پارلینمٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے۔ اعتزاز احسن نے چیف جسٹس ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد حیران تھے کہ اس صدی میں ایک چیف جسٹس کو ان کی فیملی کے ساتھ چار ماہ سے زائد عرصہ تک نظر بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وفد نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ وہ جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا ہے انہوں نے افتخار محمد چودھری اور اُن کے اہل خانہ کو گھر میں نظر بند کرنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ افتخار محمد چودھری امریکی سینیٹرز سے ملاقات کے بعد زرداری ہاؤس روانہ ہوگئے جہاں پر انہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری سے بےنظیر بھٹو کی وفات پر تعزیت کی۔ اس موقع پر پشاور ہائی کورٹ نے معزول جج صاحبان، سینٹر رضا ربانی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنما بھی موجود تھے۔ اس موقع پر زرداری ہاؤس کے باہر سیکورٹی کے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے جس کی وجہ سے اس سٹریٹ میں رہائش پذیر افراد کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ افتخار محمد چودھری چار ماہ سے زائد عرصہ گھر میں نظر بندی کے بعد پہلی مرتبہ ججز کالونی سے باہر نکلے ہیں۔ آصف علی زرداری سے تعزیت کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے گھر روانہ ہوگئے۔ زرداری ہاؤس کے باہر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ معزول چیف جسٹس صرف بےنظیر بھٹو کی وفات پر آصف علی زرداری سے تعزیت کرنے آئے تھے اور اس کے علاوہ ملاقات میں کسی ایشو پر بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت بےنظیر بھٹو کی وفات ہوئی اُس وقت افتخار محمد چودھری اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر میں نظر بند تھے۔ |
اسی بارے میں ’ججز 30 دن میں بحال ہو جائیں گے‘25 March, 2008 | پاکستان امریکیوں کی ملاقاتیں جاری26 March, 2008 | پاکستان بار کونسلوں سے خطاب کا پروگرام26 March, 2008 | پاکستان ججز کالونی میں جشن جیسا سماں27 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||