’عدلیہ بحالی نوکری کا معاملہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اعلیْ عدلیہ کے ججوں نے اپنی بحالی کے لیے نہ تو کوئی احتجاج کیا ہے اور نہ آئندہ کوئی احتجاج کرنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔ان کے بقول عدلیہ کی بحالی کے لیے احتجاج قوم نے کیا ہے۔ یاد رہے کہ نومنتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ججوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے مسائل احتجاج کی بجائے پارلیمان کے ذریعے حل کروائیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نظر بندی ختم ہونے کے بعد اپنی رہائش گاہ پر اخبار نویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ججوں کی رہائی کے اعلان کے بعد لاہور میں نظربند ججوں کے گھروں سے پولیس ہٹا لی گئی۔ جسٹس خلیل رمدے نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدلیہ کی بحالی کو ججوں کی ملازمت کا معاملہ نہ سمجھاجائے۔ ان کے بقول یہ ججوں کا ذاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ ججوں کا معاملہ عوام کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ عوام ہی کرنا ہے کہ انہیں کس قسم کے منصف چاہیے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ تین نومبر کو طاقت کے زور سے ان کو عہدوں سے ہٹایا گیا۔ان کے بقول ان کے نزدیک نوکری غیر متعلقہ چیز ہے کیونکہ وہ اپنے ضمیر اور عوام کی توقعات پر ایسی کئی نوکریاں قربان کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چار ماہ کی نظربندی کے دوران انہوں اور ان کے ساتھی ججوں کو کوئی تنخواہ نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ ججوں کی رہائی صحیح سمت میں ایک اچھا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلاء، سول سوسائٹی اور عوام نے جو جدوجہد اور قربانیاں دیں ہیں ان کا اجر اور پھل ضرور ملے گا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ تین نومبر کو عدلیہ کے خلاف جو کارروائی کی گئی ہے اس پر پوری قوم نے جو احتجاج کیا ہے وہ ان پوری زندگی کی کمائی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ججوں کی بحالی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا کیا مستقبل ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ابھی’اگر اور مگر‘ کی ہے اس لیے وہ اس بات کوئی بات نہیں کرسکتے۔ ججوں کی رہائی کے اعلان کے بعد وکلا تنظیموں کے عہدیدار، سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن جسٹس خلیل رمدے کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر جمع ہوگئے اورانہوں نے جسٹس رمدے کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ جسٹس خلیل رمدے ایک جلوس کی شکل میں اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے ۔اس موقع پر وہاں موجود افراد نے جسٹس افتخار محمد چودھری ، عدلیہ کی آزادی اور گو مشرف گو کے نعرے لگائے۔ | اسی بارے میں گرفتار ججوں کی رہائی، وزیرِاعظم کا پہلا ’حکم‘24 March, 2008 | پاکستان رکاوٹیں ہٹ گئیں، جج ’آزاد‘24 March, 2008 | پاکستان ججز کالونی سے رکاوٹیں ہٹ گئیں24 March, 2008 | پاکستان ’یہ لمحہ تاریخی ہے،خیرات میں نہیں ملا‘24 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||