سوات کا حل مذاکرات ہیں: ہوتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی وزارت اعلٰی کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے نامزد امیدوار حیدر خان ہوتی نے حکومت کے قیام سے قبل ہی شورش زدہ ضلع سوات میں تشدد پر قابو پانے کے لیے مالاکنڈ ڈویژن کے نومنتخب اراکین اسمبلی کا باقاعدہ اجلاس منعقد کیا جس میں مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ اجلاس کا مقصد مالاکنڈ ڈویژن کے عمومی مسائل بالخصوص ضلع سوات میں تشدد کی بڑھتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینا اور اس پر قابو پانے کے لیے نومنتخب اراکین اسمبلی کی آراء کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ ان کے بقول سوات کی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ضلع سوات میں بڑھتے ہوئے تشدد پر قابو پانے کے لیے مذاکرات کا عمل شروع کرنا چاہیئے۔ ان کے مطابق ’سوات میں تشدد کے خاتمہ کے لیے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ غلط ہے لہٰذا ہم نے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ نومنتخب اراکین اسمبلی، قبائلی عمائدین اور مقامی علماء کو شامل کرکے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالاجائے گا۔‘ واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی مخلوط حکومت بننے سے قبل ہی سوات میں جاری تشدد پر ایک ایسے وقت میں قابو پانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں جب انتخابات کے دوران عارضی خاموشی کے بعد صوبہ میں ایک بار پھر بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ | اسی بارے میں انتخابی امیدوار پر حملہ، دو ہلاک 13 February, 2008 | پاکستان سوات:دھماکہ میں 1 ہلاک،کئی زخمی16 February, 2008 | پاکستان اے این پی اور پیپلز پارٹی کے چیلنج23 February, 2008 | پاکستان طالبان کا سیاسی جماعتوں کو پیغام24 February, 2008 | پاکستان ’طالبان ایک طاقت ہیں، مذاکرت کریں گے‘29 February, 2008 | پاکستان ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3801 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||