BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 February, 2008, 16:01 GMT 21:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان ایک طاقت ہیں، مذاکرت کریں گے‘

امیر حیدر خان ہوتی
طالبان کو ایک فریق سمجھ کر بات چیت کریں گے: نامزد وزیر اعلی
صوبہ سرحد کی وزارت اعلی کے عہدہ کے لیے عوامی نیشنل پارٹی کے نامزد امیدوار امیر حیدر خان ہوتی نے طالبان کو ایک فریق کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلی بننے کی صورت میں وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

پارلیمانی پارٹی کی جانب سے نامزدگی کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ’ طالبان ایک قوت ہیں۔ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لہذا انہیں ایک فریق سمجھ کر ان کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ خان عبدالغفار خان کے پیرو کار ہونے کے ناطے سمجھتے ہیں کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ان کے مطابق’اگر تشدد کا جواب تشدد اور گولی کا جواب گولی سے دیا جائے تو اس کا انجام وہی ہوگا جو آج ہم اپنے علاقوں میں دیکھ رہے ہیں۔‘

امیر حیدرخان ہوتی کے مطابق صوبہ میں امن و امان کا قیام ان کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں وہ تمام فریقین سے بات چیت کرنے لیےتیار ہوں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا سوات یا باقی علاقوں میں سرگرم طالبان کے ساتھ بھی بات چیت ہوسکتی ہے تو انکا کہنا تھا کہ’طالبان کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا انہیں ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے ایک فریق کے طور پر ان کے ساتھ مل بیٹھ کر بات چیت کرنا ہوگی۔انہیں ایک حقیقت نہ سمجھنا غلط سوچ ہے۔‘

اسی بارے میں
سرحد: مضبوط موروثی سیاست؟
29 February, 2008 | الیکشن 2008
شراکت کےعادی، قیادت کا بوجھ
28 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد