BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 28 February, 2008 - Published 17:52 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شراکت کےعادی، قیادت کا بوجھ

اسفندیار ولی
’سرحد میں اب سب کچھ اسفندیار ولی کے ہاتھ میں ہے‘
خان عبدالغفار خان کے خاندان سے تعلق رکھنے اور سیاست کے دشت کی گزشتہ دو دہائیوں سے خاک چھاننے والے اسفندیار ولی کی سیاسی صلاحتیوں کے بارے میں شک و شہبات ان کی جماعت کے حالیہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر بہتر کارکردگی کی وجہ سے بےجا ثابت ہوئے ہیں۔

اسفندیار ولی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے دو ہزار دو کے انتخابات میں اے این پی کی انتہائی بری کارکردگی کے بعد پارٹی صدارت سے استعفی بھی دے دیا تھا اور مخلوط حکومت سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کی صلاحتیوں کا اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ ان کی جماعت کو ایک طویل عرصے کے بعد صوبائی حکومت میں شراکت نہیں بلکہ قیادت کی ذمہ داری ملی ہے۔ ذمہ داری بڑی ہے لہذا ناکامی کی صورت میں خطرہ بھی زیادہ۔

اب سب کچھ اسفندیار ولی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ سب کچھ بنا بھی سکتے ہیں یا پھر ایم ایم اے کی طرح بہت کچھ بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ وہ اپنی والدہ بیگم نسیم ولی اور دیگر رہنماؤں کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے پہلے ہی ’سائڈ لائن‘ کر چکے ہیں،’اچھے‘ سیاستدانوں کو جماعت میں واپس لا چکے ہیں لیکن کیا وہ ماضی کے برعکس جماعت کو بدعنوانی سے دور رکھ پائیں گے؟ ماضی میں حکومت میں آنے والے اے این پی کے بعض وزراء پر بدعنوانی کے الزامات بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔

مرکزی حکومت سے زیادہ ان کا امتحان صوبے میں ہوگا جہاں محدود وسائل کا رونا روتے روتے ایم ایم اے حکومت چلی گئی۔ کیا وہ لوگوں کے مسائل حل کر پائیں گے، صوبے کے مرکز سے بجلی کے خالص منافع کے اربوں روپے کے بقایاجات حاصل کر پائیں گے، شدت پسندی کی لہر پر قابو پاتے ہوئے امن عامہ کو بہتر کر پائیں گے اور جماعت کا محبوب ترین ایشو یعنی صوبہ کا نام تبدیل کر پائیں گے؟

 اسفندیار ولی اپنی والدہ بیگم نسیم ولی اور دیگر رہنماؤں کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے پہلے ہی’سائڈ لائن‘ کر چکے ہیں،’اچھے‘ سیاستدانوں کو جماعت میں واپس لا چکے ہیں لیکن کیا وہ ماضی کے برعکس جماعت کو بدعنوانی سے دور رکھ پائیں گے؟

اتحادی بننے سے قبل انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سے کس قسم کی یقین دہانیاں حاصل کی ہیں ابھی واضح نہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ ماضی کی طرح غصہ دکھاتے ہوئے حکومت کو الوداع کہہ دیں گے یا پھر اندر رہتے ہوئے تمام چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے؟

ان تمام سوالات کے جواب کے لیے اب شاید انہیں اور عوام کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں
نئی حکومت: امید کی ایک کرن
23 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد میں اے این پی کی اکثریت
19 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد: مجلس عمل کی پوزیشن خراب
18 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد