حیدر ہوتی وزارت اعلٰی کے امیدوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر امیر حیدر خان ہوتی کو صوبہ سرحد کی وزارتِ اعلٰی کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ بشیر احمد بلور صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ہوں گے۔ ان نامزدگیوں کا اعلان عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک نے جمعہ کو باچا خان مرکز میں اے این پی کے صوبائی اسمبلی کے اراکین کے تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انکا کہنا تھا کہ اجلاس میں شامل اراکین اسمبلی نے امیر حیدر خان ہوتی کو وزارت اعلٰی جبکہ بشیر احمد بلور کو پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نامزد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ اقتدار میں آرہی ہے اور انکی جماعت صوبہ میں امن و امان کی خراب صورتحال پر قابو پانے کو اپنی اولین ترجیح سمجھ رہی ہے۔ ’صوبہ سرحد میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا ہماری اولین ترجیح ہوگی۔اسکے علاوہ صوبائی خودمختاری، صوبے کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے ہماری حلیف جماعتیں ہمارے ساتھ مکمل طور پر متفق ہیں۔‘ افراسیاب خٹک کا مزید کہنا تھا کہ اے این پی نے وزارت اعلٰی کے لیےامیدوار کی نامزدگی کا مرحلہ خوش اسلوبی کے ساتھ طے کر لیا ہے اور اِسکے بعد وہ اپنی حلیف جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سے رابطہ کرکے آئندہ کی حکومت سازی کے حوالے سے درپیش معاملات کو طے کرے گی۔ انکے بقول حکومت سازی کے مرحلے میں مزید دو ہفتہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ افراسیاب خٹک نے دعویٰ کیا کہ بنوں سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی عدنان وزیر، ہری پور سے اختر نواز اور ڈیرہ اسماعیل خان سے خلیفہ عبدالقیوم نے بھی اے این پی کی حمایت کا اعلان کردیاہے۔ ان کی حمایت کے اعلان کے ساتھ ہی بقول انکے صوبائی اسمبلی میں انکے حمایت یافتہ اراکین کی تعداد پینتالیس ہوگئی ہے جن میں مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والی آٹھ خواتین اور ایک اقلیتی رکن بھی شامل ہے۔ انکے دعوے کے مطابق اے این پی بعض دیگر اراکین اسمبلی کے ساتھ بھی رابطے میں ہے اورانہیں امید ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران یہ تعداد پچاس تک پہنچ جائے گی۔
جمعہ کی دوپہر کو اے این پی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا جونہی آغاز ہوا تو بشیر احمد بلور کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے تقریباً پچاس پارٹی کارکنان نے احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلٰی بشیر بلور کے حق نعرے لگانے شروع کردیئے۔ بشیر بلور کے ان حمایتیوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے ایک مشہور نعرے ’اپنی دھرتی اپنا اختیار‘ کو’اپنا منہ پرایا اختیار‘ میں بدلتے ہوئے الزام لگایا کہ اے این پی نے پیپلز پارٹی کے کہنے پر بشیر بلور کو وزارت اعلٰی کے عہدے سے محروم کردیا ہے۔ ان کارکنوں کو جب اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے خاموش کرانے کی کوشش کی تو انہوں نے انکی بات سننے سے انکار کردیا جسکے بعد بشیر بلور نے باہر آکر مشتعل کارکنوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ’خدارا پوری پارٹی کے سامنے میری بے عزتی نہ کروائیں‘۔ اے این پی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزارت اعلٰی کے عہدے پر پارٹی میں اعظم خان ہوتی اور غلام احمد بلور کے گروپوں کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔ مگر انکے بقول اعظم خان ہوتی نے حالات کے قابو سے نکلنے کی صورت میں احتیاط برتتے ہوئے سوات سے نومنتخب رکن اسمبلی واجد علی شاہ کے نام کو بھی سامنے لے آئے۔ واضح رہے کہ اگر امیر حیدر خان ہوتی وزیر اعلٰی بنتے ہیں تو یہ پاکستان کی اکسٹھ سالہ تاریخ میں ہونے والے انتخابات میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ اے این پی سے تعلق رکھنے والا کوئی رکن اسمبلی صوبہ سرحد کا وزیراعلٰی بنے گا۔ اس سے قبل کئی مرتبہ زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے باوجود اے این پی وزارت اعلٰی کاعہدہ لینے سے قصداً احتراز کرتی رہی ہے۔ | اسی بارے میں سرحد میں اے این پی کی اکثریت19 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں سیاسی جوڑ توڑ شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی حکومت: امید کی ایک کرن23 February, 2008 | الیکشن 2008 شراکت کےعادی، قیادت کا بوجھ 28 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ: پہلی بار اے این پی کی کامیابی21 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||