سرحد: مضبوط موروثی سیاست؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی نے کئی سنگین مسائل سے دوچار صوبے سرحد کی قیادت کے لیے تجربہ کار کی بجائے نوجوان رہنما چُنا ہے۔ سینتیس سالہ امیر حیدر ہوتی جیسے کتنے خوش نصیب ہوں گے جو پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے ساتھ ہی وزیراعلٰی بھی نامزد ہو جائیں۔ نئی سرحد اسمبلی میں ان سے زیادہ پڑھے لکھے اور تجربہ کار منتخب نمائندوں کی شاید کوئی کمی نہیں ہوگی۔ حیدر ہوتی کی کامیابی کی اہم ترین وجہ ان کی اپنی قابلیت اور سیاسی ساکھ کم اور ایک سیاسی خاندان سے تعلق زیادہ ہے۔ سابق وفاقی وزیر مواصلات اعظم ہوتی کے برخوردار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کے بھانجے بھی ہیں۔ اس نامزدگی سے اور کچھ بہتری آئے نہ آئے سرحد میں موروثی سیاست کی مضبوطی ضرور ہوگی۔ بیگم نسیم ولی خان کی صوبائی صدارت کے دوران جائنٹ سیکٹری رہنے والے حیدر، اس سے قبل مردان میں جماعت کی ضلعی قیادت تک ہی محدود تھے۔ لاہور کے ایچسن کالج سے ایف اے اور پشاور کے ایڈورڈز کالج سے گریجویشن کرنے والے حیدر ہوتی کی کامیابی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا بھی بڑا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ ان کا مقابلہ بشیر بلور جیسے تجربہ کار اور معتدل سیاستدان کے ساتھ تھا۔ لیکن بشیر بلور کو ان کی پیپلز پارٹی کے ساتھ خونی دشمنی لے ڈوبی۔ پیپلز پارٹی کے اہم صوبائی رہنما سید قمر عباس کے گزشتہ برس قتل کو پیپلز پارٹی والے اتنی آسانی سے بھلانے والے نہیں تھے۔ پی پی پی کے نو منتخب اراکین نے آصف علی زردای پر واضح کر دیا تھا کہ انہیں بلور خاندان سے وزیر اعلی کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔ بشیر بلور اپنے خاندان کے دیگر تین اراکین کے ساتھ اس قتل کی ایف آئی آر میں براہ راست نامزد تھے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق غلام احمد بلور اور بشیر بلور نے اسلام آباد میں آصف زرداری سے ملاقات بھی کی تھی جس میں زرداری نے انہیں بتایا تھا کہ وہ صرف اپنا کندھا دے رہے ہیں، اصل بندوق عوامی نیشنل پارٹی کے اندر سے ان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔ بلور خاندان نے ایک مرتبہ پھر ولی باغ کے حق میں ایک اور قربانی دی ہے۔ اس وجہ سے اس سیاسی خاندان اور ان کے حامیوں میں اس نامزدگی پر ناراضگی قدرتی بات ہے، تاہم عمومی طور پر جماعت میں فی الحال کوئی زیادہ مخالفت نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حیدر ہوتی اس اختلاف کو دور کرنے کی کیا کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جانب انیسو بانوے میں سیاست میں باقاعدہ قدم رکھنے والے حیدر ہوتی کے والد نواز شریف کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔ مسلم لیگ کا پلڑا بھی شاید اسی وجہ سے حیدر کے حق میں ہے۔ تاہم باپ کا اثر اگر یہیں تک رہے تو بہتر ہوگا۔ ماضی میں اعظم ہوتی پر بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے عوامی نیشنل پارٹی کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ نامزد وزیر اعلی کو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا ہوگا۔ البتہ مثبت بات یہ ہے کہ وہ باپ سے عادات و اتوار میں کافی مختلف بتائے جاتے ہیں۔ صوبہ سرحد میں پہلی مرتبہ ایک قوم پرست جماعت کے وزیر اعلی کے آنے کو بعض لوگ اسٹیبلشمنٹ کی ہار بھی قرار دے رہے ہیں۔ جس جماعت پر قیام پاکستان کو تسلیم نہ کرنے جیسے الزامات لگتے رہے ہیں آج اسی پارٹی کا ایک نوجوان اس صوبے کی باگ دوڑ سنبھالے گا۔ اس تعیناتی سے قوی امکان ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کو مردان اور چارسدہ جیسے علاقوں میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر مہتاب عباسی کو ایبٹ آباد اور اکرم دورانی اور مولانا فضل الرحمان کو بنوں میں وزارت اعلی کے دوران ترقیاتی منصوبے بچا سکتے ہیں تو اب امید ہے کہ شاید مردان بھی ہوتیوں کا مستقبل کا قلعہ ثابت ہو۔ نئے وزیر اعلی کو حکومت کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بھی متحد رکھنا ہوگا۔ تبدیلی کی ہوا کے صوبہ سرحد میں بھی واضح اشارے ہیں۔ انتخابی نتائج اپنی جگہ لیکن اس ہوا سے ماضی کے داڑھی والے وزیر اعلی کی بجائے اب صوبہ کو بغیر داڑھی کے وزیر اعلی نصیب ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں سب سے مذاکرات کرنے ہونگے: اسفند 25 February, 2008 | پاکستان اے این پی اور پیپلز پارٹی کے چیلنج23 February, 2008 | پاکستان سندھ: پہلی بار اے این پی کی کامیابی21 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں اے این پی کی اکثریت19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||