BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 February, 2008, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سب سے مذاکرات کرنے ہونگے: اسفند

اسفند یار ولی اور زرداری
صوبے کے نام کی تبدیلی پر پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے شریک چئرمین اے این پی کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہیں
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان بحال کرنے کے لیے پڑوسی ممالک اور طالبان سمیت تمام فریقوں سے مذاکرات کے علاوہ وہاں سیاسی اور معاشی اصلاحات کرنی ہوں گی۔

باچا خان مرکز پشاور میں پیر کو پارٹی اجلاس کی صدارت کے بعد اخباری نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے قوم پرست رہنما نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن قائم کرنے کےلیے وہاں موجودہ نظام کو مکمل طورپر تبدیل کرنا ہوگا اور قبائلیوں کو سیاسی اور معاشی حقوق دینے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک قبائلی علاقوں میں طالبان سمیت تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر مکمل اختیارات کے ساتھ دعوت نہیں دی جاتی اس وقت تک وہاں عدم تحفظ اور دوسرے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

ان کے مطابق ’جب ہم ہندوستان کے صدر ڈاکٹر من موہن سنگھ سے امن بات چیت کرسکتے ہیں تو پھر طالبان رہنما بیت اللہ محسود سے کیوں نہیں، وہ اس ملک کے شہری تو ہیں، مگر صرف مذاکرات سے معاملہ حل نہیں ہوگا بلکہ وہاں انگریزوں کے دور سے رائج نظام کو بھی بدلنا ہوگا‘۔

صدر مشرف کا مواخذہ جذباتی بات
 صدر مشرف کا مواخذہ جذباتی باتوں کے سوا کچھ نہیں۔ ان کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو بھی اس وقت پارلمینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے اور ایوان بالا میں جو اتحاد بننے جا رہا ہے اس کے پاس بھی سادہ اکثریت نہیں
اسفندیار ولی

اسلام آباد میں آصف علی زرداری سے حالیہ ملاقات کے بارے میں اے این پی کے سربراہ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے شریک چئرمین سے صوبے کے نام کی تبدیلی اور صوبائی خودمختاری پر ان کی بات ہوئی ہے جس کے لیے وہ اے این پی کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا عدلیہ اور معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر بھی موقف واضح ہے جس کے مطابق اس اہم مسئلے کو نئی پارلمینٹ میں حل کیا جانا چاہیے۔

اسفند یار ولی کے مطابق مرکز میں ان کی پارٹی پیپلز پارٹی کا جبکہ صوبے میں پیپلز پارٹی اے این پی کا ساتھ دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف کا مواخذہ جذباتی باتوں کے سوا کچھ نہیں۔ ان کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو بھی اس وقت پارلمینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے اور ایوان بالا میں جو اتحاد بننے جا رہا ہے اس کے پاس بھی سادہ اکثریت نہیں پھر وہ کس طرح صدر کا مواخذہ کرینگے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر کرک اور کوہاٹ سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے سرحد اسمبلی کے دو اراکین میاں نثار گل اور امجد افریدی نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں
اے این پی کے نائب صدر ہلاک
06 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد