سیاسی قیدیوں پر تشدد کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی، مری اتحاد اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے آج خضدار پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور کہا کہ خضدار جیل میں سیاسی قیدیوں پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق قیدیوں نے جیل کے اندر بھوک ہڑتال شروع کر کھی ہے لیکن خصدار جیل کے حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ خضدار سے جمہوری وطن پارٹی براہمدغ گروپ کی مرکزی کمیٹی کے رکن غفار ساسولی نے الزام لگایا کہ دو روز پہلے جیل حکام نے بارہ قیدیوں پر تشدد کیا ہے۔ غفار ساسولی کے مطابق یہ سیاسی قیدی ہیں اور ان کا تعلق جمہوری وطن پارٹی، مری اتحاد اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے ہے۔ غفار ساسولی نے بتایا ہے کہ خصدار میں دو روز سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافیوں کو بھی جیل میں ان قیدیوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تشدد ملٹری حکام کے کہنے پر کیا جا رہا ہے اور ان میں سے کچھ قیدیوں کو بلوچ قائدین کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بارے میں خصدار جیل کے سپرنٹنڈنٹ شیر زمان ترین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کو علیحدہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ انہوں نےدو روز پہلے ایک سپاہی کو مارا تھا۔ شیر زمان ترین نے بتایا کہ یہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے قیدی ہیں اور دو روز پہلے انہیں منع کیا گیا تھا کہ وہ دوسری بیرکوں میں نہ جائیں لیکن اس کے جواب میں ان قیدیوں نے ایک سپاہی کی پٹائی کر دی۔ اس کے بعد سے ان قیدیوں کو علیحدہ رکھا گیا ہے لیکن کسی قیدی پر تشدد نہیں کیا گیا۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں مظاہرہ اور شٹرڈاؤن ہڑتال06 October, 2007 | پاکستان سیاسی کارکنوں کی رہائی کا حکم 19 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||