BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 February, 2008, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: دکانیں بند،گاڑیاں نذرِ آتش

بس نذرِ آتش(فائل فوٹو)
نامعلوم افراد نے دو بسوں سمیت آٹھ گاڑیاں جلا دیں(فائل فوٹو)
کراچی میں گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر فضل الرحمان ا کاخیل کے قتل کے بعد جمعرات کو تمام اہم کاروباری مراکز، بازار اور مارکیٹیں بند رہیں اور سڑکوں پر بہت کم ٹریفک دیکھنے میں آیا جبکہ ایک علاقے میں مشتعل افراد نے علی الصبح کم سے کم آٹھ گاڑیاں جلا دیں۔

فضل الرحمان ا کاخیل کو جمعرات کو سہراب گوٹھ کے قریب مدینہ کالونی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اور مقامی رہنماؤں کے علاوہ کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اے این پی کے سیکریٹری جنرل امین خٹک نے بتایا کہ واقعے کے خلاف ان کی جماعت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔’ہم نے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور سوگ کے دوران گھروں پر سیاہ پرچم لہرائیں اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں‘۔

انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کا قتل انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے۔’اس قتل میں ملوث افراد شہر میں لسانی فساد کرانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں انتخابات ملتوی کرانے کا جواز مل سکے لیکن اے این پی کے کارکن اور عوام اس سازش کو ناکام بنا دیں گے‘۔ انہوں نے بتایا کہ اے این پی نے اس مسئلے پر چودہ فروری کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کو تمام اہم کاروباری مراکز، بازار اور مارکیٹیں بند رہیں

ادھر نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں سخی حسن قبرستان کے قریب نامعلوم افراد نے دو بسوں سمیت آٹھ گاڑیاں گاڑیاں نذر آتش کر دیں تاہم واقعے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ کراچی پولیس نے سربراہ نیاز صدیقی نے بتایا کہ’صرف ایک علاقے میں یہ واقعہ ہوا ہے جس کی پولیس تفتیش کر رہی ہے لیکن مجموعی طور پر شہر پرامن ہے اور تمام بازار اور دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس اور رینجرز گشت کر رہے ہیں جبکہ بینظیر بھٹو کے چہلم کے حوالے سے بھی بعض علاقوں میں قرآن خوانی اور لنگر کی تقریبات میں پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد