رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | اسفندیار حال ہی میں یورپ اور امریکہ کے دورے سے لوٹے ہیں |
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور قوم پرست رہنما اسفندیار ولی خان نے الزام لگایا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں پاکستانی اسٹیبلِشمینٹ کا ایک مخصوص طبقہ ملوث ہے جو ان علاقوں میں امن نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیورنڈ لائن سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان کے اندر ایک باقاعدہ گوریلا جنگ ہورہی ہے اور یہ سوال تو پاکستانی وزیر داخلہ سے ہونا چاہیے کہ ان جنگجوؤں کو اسلحہ کون دے رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے دورے سے واپسی پر وہ ہفتے کے روز پہلی دفعہ پشاور میں اخبار نویسوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے دورے پر ان کی پارلیمنٹ کی ممبران اور دیگر اہم امریکی اور برطانوی تھنک ٹینک کے اراکین سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے تھنک ٹینک کے ان ارکان کے سامنے پشتونوں کا موقف پیش کیا۔ سینیٹر اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ آج پشتونوں کی سرزمین پر، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان، جنگ ہورہی ہے اور ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ ’چونکہ امریکہ ایک اہم پلیئر ہے اور میرے دورے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس خطے میں پائیدار امن کے لیے ان کے سامنے تجاویز پیش کی جائیں۔‘ تاہم انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ وہ امریکہ سے کوئی ایجنڈا لیکر آئے ہیں۔ ’ نہ ہم نے پہلے کبھی کسی کا ایجنڈا پیش کیا ہے، نہ اب کر یں گے اور نہ مسقبل میں ایسا ہوگا۔‘ پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری حالیہ تلخی کے حوالے سے اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خاصی کمزوریاں ہیں ان کو دور ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان کے اندر ’خطرناک گوریلا لڑائی‘ ہورہی ہے اور قبائلی علاقوں میں بھی ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ ’اس میں پاکستانی اسٹیبلِشمینٹ ملوث ہے جو انتہاپسندی اور دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے۔‘ سابق وزرائےاعظم بے بظیر بھٹو اور نوازشریف کی لندن میں حالیہ ملاقات اور میثاق جمہوریت پر دستخط کے حوالے سے اسفندیار کا کہنا تھا میثاق کی چند شقوں پر تو ’ہم متفق ہیں لیکن چند پر بات کی جاسکتی ہے‘ تاہم اس حوالے سے ان کی پارٹی کا تفصیلی موقف آئندہ چند روز میں آ جائے گا۔ |