BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 February, 2008, 13:20 GMT 18:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے این پی کے نائب صدر ہلاک

فائرنگ کے بعد سہراب گوٹھ کے علاقے میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی ہے
کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں بدھ کی سہ پہر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر فضل الرحمٰن آکا خیل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے اسے ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل قرار دیا ہے اور واقعہ کے بعد سہراب گوٹھ میں ہنگامہ آرائی ہوئی ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اور خوف و ہراس کے باعث دکانیں بند کردی گئی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبۂ سندھ کے نائب صدر فضل الرحمٰن آکاخیل اپنے دوست عثمان شیخ کے ساتھ اپنی کار پر گھر سے نکلے۔ انہیں سپر ہائی وے پر موڑ کاٹتے ہوئے موٹرسائیکل سوار دو نامعلوم افراد نے روکا اور فائرنگ کردی۔

ڈی آئی جی شرقی میر حسین لہڑی نے کہا کہ فضل الرحمٰن اور ان کے دوست کو گولیاں لگیں جبکہ حملہ آور فرار ہوگئے۔ زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں فضل الرحمٰن ہلاک ہوگئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکریٹری امین خٹک نے بتایا کہ فضل الرحمٰن کے دوست عثمان شیخ کو دو گولیاں لگیں ہیں اور وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔

انہوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل ہے کیونکہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اب یہ حکومت کا کام ہے کہ قاتلوں کو تلاش کرے لیکن اگر حکومت صرف بیان بازی سے کام لے گی اور غلط کاموں کی طرف داری کرے گی تو اس طرح بات نہیں بنے گی‘۔

قتل کی اس واردات کے بعد سہراب گوٹھ کے علاقے میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور وقفے وقفے سے فائرنگ ہوتی رہی جبکہ وہاں سےگزرنے والی ایک بڑی شاہراہ سپر ہائی وے پر ٹریفک کی روانی بھی کئی گھنٹوں سے معطل ہے۔

موقع پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری پہنچ گئی ہے اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بھی کشیدگی کی اطلاعات ملی ہیں۔

واقعہ کے تقریباً چار گھنٹے بعد جب ڈی آئی جی میر حسین لہڑی سے پوچھا گیا کہ کیا ہنگامہ آرائی پر قابو پا لیا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ’اب تک ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی فضل الرحمٰن آکاخیل کا جسد خاکی ہسپتال سے ان کے گھر لایا جارہا ہے اور لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے لہذٰا کشیدگی پر قابو پانے میں تھوڑا وقت اور لگے گا‘۔

صدر کے علاقے رینبو سینٹر کے قریب بھی چند شرپسندوں نے شام کو ہوائی فائرنگ کی جس کے بعد وہاں دکانیں بند کر دی گئیں اور افراتفری پھیل گئی۔علاقے میں ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوئی جس کے باعث صدر اور محلقہ سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا۔گزری، بنارس کالونی، قائدآباد، آلاصف سکوائر، ابوالحسن اصفہانی روڈ، نیو سبزی منڈی اور دیگر علاقوں سے بھی کشیدگی کی اطلاعات ملی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد