BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 14:00 GMT 19:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے این پی اور پیپلز پارٹی کے چیلنج

زرداری اور اسفندیار ولی
اے این پی نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ چلنا چاہتی ہے
اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کے حوالے سے کوششوں کے ساتھ ساتھ بعض مبصرین کی نظریں مرکز اور چاروں صوبوں میں آئندہ بننے والی حکومتوں کو درپیش چیلنجز پر مرکوز ہیں۔

عمومی طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مبینہ فوجی آپریشن، بڑھتی ہوئی ’طالبانائزیشن‘ اور معزول ججوں کی بحالی سے لے کر مہنگائی، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیاء کی قلت جیسے ممکنہ چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تاہم قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد تشدد کی جو لہر صوبہ سرحد کے سوات اور دیگر شہری علاقوں میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور مبینہ ٹارگٹ ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آئی تھی اس نے صوبہ میں حکومت بنانے کی جوڑ توڑ میں مصروف اے این پی اور پیپلز پارٹی کو بظاہر ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت صوبہ میں بڑھتی ہوئی تشدد کو سب سے بڑا چیلنج سمجھتی ہے۔

ان کے مطابق’گزشتہ کئی سالوں سے تشدد کی لہر قبائلی علاقوں سے صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں میں داخل ہوچکی ہے اور کئی علاقوں میں حکومتی عمل داری تقریباً ختم ہوچکی ہے لہذا ہماری جماعت حکومت بنانے کے بعد لوگوں کو تشدد سے نجات دلانے کی کوشش کے سلسلے میں طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پالیسیاں تشکیل دی گی۔،

طویل اور مختصرمیعاد پالیسیاں
 کئی سال سے تشدد کی لہر قبائلی علاقوں سے صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں میں داخل ہوچکی ہے اور کئی علاقوں میں حکومتی عمل داری تقریباً ختم ہو چکی ہے لہذا ہماری جماعت حکومت بنانے کے بعد طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پالیسیاں تشکیل دی گی۔،
افراسیاب خٹک

افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پرائی ہے لہذا وہ مرکز میں بننے والی حکومت سے اس شرط پر تعاون کریں گے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس میں بعض تبدیلیاں لائیں۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ صوبہ میں سرگرم تشدد پسندگروہوں پر بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے جائیں گے۔

تاہم پیپلز پارٹی کی صوبائی صدر رحیم داد خان امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے عام لوگوں کی حکومت میں شراکت داری کے پہلو پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔انکے بقول’ ہم صوبہ بھر میں عام لوگوں سے رابطہ کریں گے اور انہیں اقتدار میں شراکت داری کا احساس دلا کر تشدد سے نمٹنے کے لیے انکی مدد مانگیں۔ ہم فوجی آپریشن اور امریکہ کی مداخلت کی بھی مخالفت کریں گے‘۔

سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر محمد فاروق بھی امن و امان کو آئندہ کی صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مسئلہ سے مرکز اور صوبہ میں ایک جیسی جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومتیں ہی مؤثر طور پر نمٹ سکتی ہیں۔

انکے مطابق’صوبہ سرحد سے تشدد کا خاتمہ صرف صوبائی حکومت نہیں کرسکتی بلکہ مرکزی اور صوبائی حکومت ایک مربوط پالیسی کے تحت کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ مرکز اور صوبے میں پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومتیں ہو‘۔

صوبہ سرحد میں تقریباً پانچ سال تک مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی حکومت رہی لیکن اس بار اقتدار کی باگیں عوامی نیشنل پارٹی یا پیپلز پارٹی جیسی معتدل سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں ہونگی۔

مخلوط حکومتوں کی ضرورت
 تشدد کا خاتمہ صرف صوبائی حکومت نہیں کرسکتی ضروری ہے کہ مرکز اور صوبے میں پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومتیں ہو
ڈاکٹر محمد فاروق

قبائلی علاقوں کے لیےسابق سیکریٹری سکیورٹی بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد سے’طالبانائزیشن‘ کے خاتمہ کے لیے حکومت کے پاس صرف اور صرف قوم پرست ہی ایک متبادل قوت پر باقی رہ گئے ہیں۔

ان کے بقول’قوم پرستوں کی عوام میں جڑیں ہیں اور صدر مشرف کی حکومت کو ماضی میں انہیں متبادل قوت کے طور پر سامنے لانا چاہیے تھا لیکن اب جبکہ وہ خود ووٹ کے ذریعے جیت کر آئے ہیں تو شاید ہی انہیں تشدد کے خاتمہ میں کامیابی حاصل ہوسکے‘۔

تاہم بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ صورتحال پر قابو پانے کے حوالے سے بعض تجاویز پیش کر تے ہیں۔ان کے مطابق’ قوم پرستوں کو معاشرے کی تشکیل نو کرنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات کرنے چاہیں کہ مذہبی جماعتوں کو لوگوں میں کم سے کم جگہ ملے اس کے علاوہ صوبائی محکمہ داخلہ، فرنٹیئر کانسٹبلری، فرنٹیئر کور اور پولیس کے نظام کو مربوط بنائیں جب کہ اے این پی کو پاک افغان سرحد کے آر پار تشدد پر قابو پانے کے لیے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ اپنے دیرینہ اچھے تعلقات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے‘۔

اسفندیار ولیسرحد کا سیاسی منظر
’اتحاد کوئی بھی وزارتِ اعلٰی اے این پی کی‘
اسفندیار ولیاے این پی سندھ میں
سندھ میں پختونوں کی پہلی بار دو سیٹیں
نواز شریف اور آصف زرداری’بات دو تہائی کی‘
ممکنہ حکمران اتحاد اور دو تہائی اکثریت
منظور وٹوآزاد کتنے’ آزاد ‘؟
حکومت سازی، آزاد ارکان پر سب کی نظر
ایک سیاسی کارکنپاکستان:مغرب سرگرم
پاکستانی سیاست اور سرگرم مغربی سفارتکار
پاکستان انتخاباتبدلتے سیاسی رویے
’پاکستان کا سیاسی کلچر شاید تبدیل ہو رہا ہے‘
جمہوریت کی جیت
نتائج کے بعد ملک بھر میں جشن کا سماں
اسی بارے میں
زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق
21 February, 2008 | الیکشن 2008
سرحد میں اے این پی کی اکثریت
19 February, 2008 | الیکشن 2008
فاٹا میں دس سیٹوں پر الیکشن
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد