اے این پی اور پیپلز پارٹی کے چیلنج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کے حوالے سے کوششوں کے ساتھ ساتھ بعض مبصرین کی نظریں مرکز اور چاروں صوبوں میں آئندہ بننے والی حکومتوں کو درپیش چیلنجز پر مرکوز ہیں۔ عمومی طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مبینہ فوجی آپریشن، بڑھتی ہوئی ’طالبانائزیشن‘ اور معزول ججوں کی بحالی سے لے کر مہنگائی، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیاء کی قلت جیسے ممکنہ چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد تشدد کی جو لہر صوبہ سرحد کے سوات اور دیگر شہری علاقوں میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور مبینہ ٹارگٹ ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آئی تھی اس نے صوبہ میں حکومت بنانے کی جوڑ توڑ میں مصروف اے این پی اور پیپلز پارٹی کو بظاہر ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت صوبہ میں بڑھتی ہوئی تشدد کو سب سے بڑا چیلنج سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق’گزشتہ کئی سالوں سے تشدد کی لہر قبائلی علاقوں سے صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں میں داخل ہوچکی ہے اور کئی علاقوں میں حکومتی عمل داری تقریباً ختم ہوچکی ہے لہذا ہماری جماعت حکومت بنانے کے بعد لوگوں کو تشدد سے نجات دلانے کی کوشش کے سلسلے میں طویل المیعاد اور قلیل المیعاد پالیسیاں تشکیل دی گی۔،
افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پرائی ہے لہذا وہ مرکز میں بننے والی حکومت سے اس شرط پر تعاون کریں گے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس میں بعض تبدیلیاں لائیں۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ صوبہ میں سرگرم تشدد پسندگروہوں پر بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی صوبائی صدر رحیم داد خان امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے عام لوگوں کی حکومت میں شراکت داری کے پہلو پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔انکے بقول’ ہم صوبہ بھر میں عام لوگوں سے رابطہ کریں گے اور انہیں اقتدار میں شراکت داری کا احساس دلا کر تشدد سے نمٹنے کے لیے انکی مدد مانگیں۔ ہم فوجی آپریشن اور امریکہ کی مداخلت کی بھی مخالفت کریں گے‘۔ سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر محمد فاروق بھی امن و امان کو آئندہ کی صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مسئلہ سے مرکز اور صوبہ میں ایک جیسی جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومتیں ہی مؤثر طور پر نمٹ سکتی ہیں۔ انکے مطابق’صوبہ سرحد سے تشدد کا خاتمہ صرف صوبائی حکومت نہیں کرسکتی بلکہ مرکزی اور صوبائی حکومت ایک مربوط پالیسی کے تحت کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ مرکز اور صوبے میں پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومتیں ہو‘۔ صوبہ سرحد میں تقریباً پانچ سال تک مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی حکومت رہی لیکن اس بار اقتدار کی باگیں عوامی نیشنل پارٹی یا پیپلز پارٹی جیسی معتدل سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں ہونگی۔
قبائلی علاقوں کے لیےسابق سیکریٹری سکیورٹی بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد سے’طالبانائزیشن‘ کے خاتمہ کے لیے حکومت کے پاس صرف اور صرف قوم پرست ہی ایک متبادل قوت پر باقی رہ گئے ہیں۔ ان کے بقول’قوم پرستوں کی عوام میں جڑیں ہیں اور صدر مشرف کی حکومت کو ماضی میں انہیں متبادل قوت کے طور پر سامنے لانا چاہیے تھا لیکن اب جبکہ وہ خود ووٹ کے ذریعے جیت کر آئے ہیں تو شاید ہی انہیں تشدد کے خاتمہ میں کامیابی حاصل ہوسکے‘۔ تاہم بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ صورتحال پر قابو پانے کے حوالے سے بعض تجاویز پیش کر تے ہیں۔ان کے مطابق’ قوم پرستوں کو معاشرے کی تشکیل نو کرنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات کرنے چاہیں کہ مذہبی جماعتوں کو لوگوں میں کم سے کم جگہ ملے اس کے علاوہ صوبائی محکمہ داخلہ، فرنٹیئر کانسٹبلری، فرنٹیئر کور اور پولیس کے نظام کو مربوط بنائیں جب کہ اے این پی کو پاک افغان سرحد کے آر پار تشدد پر قابو پانے کے لیے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ اپنے دیرینہ اچھے تعلقات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے‘۔ |
اسی بارے میں پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق21 February, 2008 | الیکشن 2008 سرحد میں اے این پی کی اکثریت19 February, 2008 | الیکشن 2008 فاٹا میں دس سیٹوں پر الیکشن19 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||