BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 March, 2008, 07:55 GMT 12:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاک ہونے والوں کی تعداد 38

مینگورہ دھماکہ
مینگورہ دھماکے کے کچھ زخمیوں کا مقامی ہسپتال میں علاج کیا گیا
سوات میں جمعہ کو ڈی ایس پی کے جنازے پر ہونے والے مبینہ خودکش حملہ میں مرنے والوں کی تعداد اڑتیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ پینسٹھ افرادزخمی ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ملاکنڈ کے ڈی آئی جی سید اختر علی شاہ کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی جاوید اقبال کے جنازے پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے پینتیس افراد کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ تین افراد ناقابل شناخت ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ واقعہ کی تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جبکہ جائے وقوعہ سے مبینہ خودکش بمبار کا سر بھی ملا ہے۔

دوسری طرف مینگورہ میں ہلاک ہونے والے اٹھائیس افراد کی نماز جنازے اداکردی گئی ہے۔مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کرفیو کے نفاذ اور حکومت کی جانب سے جنازوں میں شرکت نہ کرنے کے اعلانات کے باوجود تقریباً تین ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی ہے۔

ان کے بقول کئی مقامات پر اجتماعی جنازے ادا کیے گئے ہیں جبکہ شہر میں سوگ کا سا سماں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مینگورہ کا بازار مکمل طور پر بند ہے۔

لکی مروت
ڈی ایس پی جاوید اقبال پولیس کی ایک گاڑی میں ہونے والے دھماکے کا نشانہ بنے تھے
یہ حملہ جمعہ کی رات آٹھ بجکر پچیس منٹ پر مینگورہ کےحاجی بابا زیارت کے مقام پر ہوا تھا جہاں صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع لکی مروت میں جمعہ ہی کی صبح ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے ڈی ایس پی جاوید اقبال کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی۔ اس موقعہ پر حکام کے مطابق پانچ سو سے زائد افراد جمع تھے۔

مقامی صحافی شیریں زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ڈی ایس پی جاوید اقبال کا جواں سال بیٹا بھی شامل ہے۔ شدید زخمی افراد کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال کے حکام نے زخمیوں کے لیے خون کے عطیے کی اپیل کی ہے۔

موقع پر موجود ڈی ایس پی کرامت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ڈی ایس پی جاوید اقبال کا جنازہ ابھی ختم ہی ہوا تھا تو ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے نظر آ رہے تھے۔

سوات پولیس کے افسر واقف خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں مینگورہ کے ایس ایچ او بھی شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والے پولیس افسر جاوید

ڈی ایس پی جاوید اقبال جمعہ کی صبح پولیس کی ایک گاڑی میں ہونے والے دھماکے کا نشانہ بنے تھے اور اس واقعے میں ان کے علاوہ مزید دو پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے جن کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

پولیس کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا اور دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

یاد رہے کہ لکی مروت شمالی جنوبی وزیرستان کے سنگم پر واقع ایک ضلع ہے جہاں پہلے بھی قانون نافد کرنے والے اور دیگر اداروں پر حملے ہوئے ہیں۔ اور تین ہفتے پہلے لکی مروت سے اٹامک انرجی کے تین اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا تھا جو ابھی تک بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں
25 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد