BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کل کا قائد ایوان، آج کا قائد حزب اختلاف

اجلاس الیکشن کے انعقاد کےانتالیس روز بعد جمعہ کی صبح منعقد ہورہا ہے
اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں چاروں صوبوں میں معرض وجود میں آنے والی اسمبلیوں میں سے صوبہ سرحد کی اسمبلی وہ پہلی اسمبلی ہے جس کا اجلاس الیکشن کے انعقاد کےانتالیس روز بعد جمعہ کی صبح منعقد ہورہا ہے ۔

سنہ دو ہزار دو اور دو ہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلیوں میں کچھ مماثلت پائی جاتی ہے۔

دو ہزار دو میں افغانستان پر امریکی حملہ کے بعد پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے ایک اتحاد کی صورت میں جو احتجاجی تحریک چلائی تھی اس تحریک کے نتیجہ میں ایم ایم اے نے ملک بھر بالخصوص صوبہ سرحد اور بلوچستان میں لوگوں کا دل جیت کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی صورت میں اس کا معاوضہ وصول کیا تھا تاہم مرکز میں حزب اختلاف جبکہ بلوچستان اور صوبہ سرحد میں اقتدار میں رہنے کے بعد بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن، بم دھماکوں اور بم حملوں سے تنگ آنے والے انہی لوگوں نے دوسری انتہا پر پہنچ کر تقریباً پانچ سال کے بعد وہی مینڈیٹ معتدل اور لبرل سوچ رکھنے والی جماعتوں کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔

دو ہزار دو کے انتخابات میں صوبہ سرحد میں انتخابات کے نتیجہ میں منتخب ہونے والے زیادہ تر امیدوار نئے تھے جبکہ اس دفعہ بھی ایک سو سترہ کے ایوان میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے تقریباً ستانوے اراکین افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھائیں گے۔

گزشتہ اسمبلی میں بھی مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ حزب اختلاف کے بینچز پر بیٹھے تھے اور اس بار بھی اپوزیشن کے بینچز ہی ان کے حصہ میں آئے ہیں۔ دو ہزار دوکے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی میں مختلف الخیال جماعتوں پر مشتمل حزب اختلاف زیادہ مضبوط نہیں تھی اور اس بار تو اپوزیشن پچیس سے زائد اراکین کےساتھ زیادہ ہی کمزور نظر آرہی ہے۔

ایم ایم اے کی تقسیم اور جماعت اسلامی کا انتخابات سے بائیکاٹ کے بعد جے یو آئی(ف) کو خواتین کی مخصوص نشستوں کو ملا کر چودہ نشستیں ملی ہیں اور مرکز میں حکران اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود مخلوط صوبائی حکومت میں شامل اے این پی اور پیپلز پارٹی نے اسے حکومت سے فی الحال باہر ہی رکھا ہے۔ جے یو آئی نے کہا ہے کہ وہ ’اصولی‘ طور پر اپوزیشن میں بیٹھے گی اور غالب امکان ہے کہ کل کے قائد ایوان اکرم خان درانی آج کی صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی کرسی پر براجمان نظر آئیں۔

اکرم خان درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی صوبائی حکومت کے ساتھ نہ صرف تعاون کرے گی بلکہ انہیں کسی بھی مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے راستہ فراہم کرے گی۔

اے این پی کے نامزد وزیر اعلی حیدر خان ہوتی کے پارٹی کے قائدین کے ہمراہ اکرم خان درانی سے ملاقات اور آئندہ بننے والی حکومت کے بارے میں ان کے نرم رویہ سے مبصرین یہ نتیجہ اخذ کررہے ہیں کہ جے یو آئی مرکز میں حکمران اتحاد کا حصہ بننے کے بعد موجودہ صوبائی اسمبلی میں بظاہر ’ فرینڈلی اپوزیشن‘ کا کردار اد کرنےکے لیے تیار نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور مسلم لیگ قائداعظم نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ جے یو آئی کے پاس جانے کا راستہ روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔

اسی بارے میں
ایک سرد حلف برداری
25 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد