ایک سرد حلف برداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایوانِ صدر کے جس نقشین چوبی دروازے کے پیش منظر میں صدر پرویز مشرف نے سید یوسف رضا گیلانی کو حلف اٹھوایا عین اسی جگہ انیس سو اٹھاسی میں جب پینتیس سالہ بےنظیر بھٹو سبز لباس اور سفید دوپٹے میں صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ ساتھ حلف کے الفاظ دوہرا رہی تھیں تو بےنظیر اپنی آنکھوں کی چمک اور تمتاتی خوشی چھپانے میں بالکل بےبس نظر آرہی تھیں۔ آج بیس برس بعد بھی وہی وسیع و عریض ہال تھا جس میں انہی دو فانوسوں کی روشنی میں حکومتِ پاکستان کے سرکاری نشان والے سبز میز پوش پر اسی طرح پھول سجے ہوئے تھے اور حلف اٹھانے اور اٹھوانے والے کے پیچھے سجاوٹی فوجی لباس میں دو انسانی بت بھی ساکت کھڑے تھے۔ سلیقے سے قطار در قطار لگی کرسیاں بھی بھری ہوئی تھیں۔ لیکن بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری، نواز شریف اور اسفند یار ولی نے یوسف رضا گیلانی کو رحمان ملک، فاروق نائیک، جہانگیر بدر، بابر اعوان، لطیف کھوسہ اور ڈاکٹر قیوم کے ساتھ ایوانِ صدر ایسے بھیجا جیسے لڑکی والے رخصتی کے وقت دو چار جہاندیدہ بوڑھیاں بطور مشیر دلہن کے ساتھ کر دیتے ہیں۔ حیرت تو اس پر ہے کہ تقریبِ حلفِ وفاداری میں وہ لوگ بھی نہیں آئے جو آٹھ برس تک صدر پرویز مشرف کا سایہ بنے رہے اور جن کی وفاداری کا یہ عالم تھا کہ بقول ضمیر جعفری ’آقا جو لڑکھڑایا تو نوکر پھسل گیا۔‘ صدر مملکت آخری وقت تک عینک کے پیچھے سے چوہدری شجاعت، پرویز الہی، مشاہد حسین اور ہمنواؤں کو تلاش کرتے رہے اور صدر کے چہرے پر ایک کش مکش آمیز سنجیدگی طاری رہی۔ گو ہال میں نگراں وزیرِ اعظم، ان کی کابینہ، صدارتی عملہ، غیر ملکی سفرا سب ہی طرح کے لوگ تھے۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ چند لوگوں کی موجودگی کے سبب تقریباتی ماحول کچھ ایسا ہو گیا تھا جیسے کسی ٹرین کے ڈبے یا بس میں ایک ساتھ سفر کرنے پر مجبور مسافر ایک دوسرے کو اخلاقاً برداشت کر لیتے ہیں۔
نئے وزیرِ اغطم کی اہلیہ اور صدر مشرف کی اہلیہ صہبا کو ٹی وی کا کیمرہ اگرچہ بار بار دکھاتا رہا لیکن کیمرے کو حسرت ہی رہی کہ وہ ان دونوں خواتین کو گفتگو کرتے ہوئے پکڑ سکے۔ حلف برداری کے بعد صدر نے جس طرح ایک لمحہ سوچنے کے بعد نئے وزیرِ اعظم سے مصاحفہ کیا مجھے بےساختہ کٹھمنڈو میں ہونے والی وہ سارک سربراہ کانفرنس یاد آگئی جب پرویز مشرف نے اٹل بہاری واجپائی کے پاس جا کر مصاحفے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو واجپائی کو بھی ایک برفانی مسکراہٹ کے ساتھ بادلِ نخواستہ ہاتھ بڑھانا ہی پڑ گیا۔ ماحول کی سرد مہری میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ حلف کے الفاظ ختم ہوتے ہی تقریب کے ادب و آداب سے عاری کچھ لوگوں کی جانب سے بلند ہونے والے ’جئے بھٹو‘ اور ’چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر‘ کے نعرے نے پوری کر دی۔ صدر پرویز مشرف نے اس موقع پر اگلی نشست پر بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب دیکھا۔ لیکن جنرل کیانی سوائے چیف آف آرمی سٹاف کی چھڑی ہلکے سے ہلانے کے علاوہ کچھ نہ کر پائے۔ بالشویکوں کے ہاتھوں روس کے آخری مطلق العنان زار نکولس دوم کی موت اگرچہ سرخ انقلاب کے ایک برس بعد ہوئی، لیکن مورخین کہتے ہیں کہ زار کا انتقال اصل میں اسی دن ہوگیا تھا جب انقلاب کا طبل بجتے ہی زار نے دیکھا کہ بدتمیز مزدور اور کسان شاہی محل میں زبردستی گھسنے کے بعد قالین پر کیچڑ بھرے جوتوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں وزیر اعظم کاحلف ہوگیا، اعتماد کاووٹ ہفتےکو25 March, 2008 | پاکستان وزیر خارجہ قریشی، وزیر خزانہ ڈار25 March, 2008 | پاکستان پرویزمشرف: پانچ حلف لینے والےصدر25 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||