BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 March, 2008, 07:00 GMT 12:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتماد کاووٹ ہفتےکو لیں گے

 یوسف رضا گیلانی
یوسف رضا گیلانی پچیس مارچ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے
پاکستان پیپلز پارٹی کے نو منتخب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے، ان سے صدر پرویز مشرف نے حلف لیا۔


ایوان صدر میں منعقد حلف برداری کی تقریب مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر کے ساتھ شروع ہوئی۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفیر، پاکستان کے فوجی سربراہان اور دیگر فوجی و سول حکام تو شریک ہوئے لیکن آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف سمیت نئے حکومتی اتحاد کے کسی سرکردہ رہنما نے شرکت نہیں کی۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اعتماد کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سنیچر انتیس مارچ کی صبح دس بجے ہوگا۔ اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے نوٹس پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ غیر مشروط حمایت کرنے والی پارٹی ایم کیو ایم کے دستخط بھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اعتماد کے ووٹ کے بعد ہی کابینہ حلف اٹھائے گی۔

تقریب حلف برداری میں چاروں صوبوں کے گورنر، چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگراور دیگرحکام شریک ہوئے۔لیکن دعوت کے باوجود مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت اور پرویز الہیٰ شریک نہیں ہوئے۔

یوسف رضا گیلانی کے حلف اٹھاتے ہی ایوان صدر کے ہال میں موجود بعض شرکاء نے جیئے بھٹو اور چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر کے نعرے لگائے۔


اس تقریب کے ختم ہوتے ہی صدر مشرف نے یوسف رضا گیلانی کو مبارک باد پیش کی جس کے بعد دیگر شرکاء وزیر اعظم کو مبارک باد پیش کرتے رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چوتھے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھانے والے یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ان کی جماعت کے رحمٰن ملک ،لطیف کھوسہ اور بابر اعوان ساتھ رہے جبکہ وزیراعظم کی غیر مشروط حمایت کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندے، نگران حکومت کے وزیر، منظور وٹو اور دیگر بھی شریک ہوئے۔

یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے پہلے غیر بھٹو وزیراعظم ہیں۔ حلف برداری کی تقریب میں قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا اور ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی بھی شریک ہوئے۔

نئے حکمران اتحاد کے مرکزی رہنماؤں نے ایوان صدر میں وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب کا بظاہر غیر اعلانیہ بائیکاٹ کرکے صدر مشرف کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ایک سوالیہ نشان لگادیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب اس اعتبار سے بھی اپنی نوعیت کی منفرد تقریب نظر آئی جس میں وزیر اعظم کے ہمراہ کابینہ نے حلف نہیں اٹھایا۔ تاہم پرویز مشرف ملک کے پہلے صدر ہیں جنہیں آٹھ سالہ دور میں پانچ وزراء اعظموں ( ظفراللہ جمالی، چودھری شجاعت، شوکت عزیز، محمد میاں سومروں اور یوسف رضا گیلانی) سے حلف لینے کا اعزاز حاصل ہوا۔

صدر پرویز مشرف کے سیاسی مستقبل کے بارے میں حکومتی اتحاد کی ایک اہم جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مؤقف بڑا واضح ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے نامزد وزیر صدر جنرل پرویز مشرف سے مجبوراً حلف لیں گے۔ ان کے مطابق وہ جنرل مشرف کو قانونی صدر نہیں مانتے اور صدر کو فوری مسعفی ہوجانا چاہیے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم سنیچر کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ قانون کے مطابق وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ساٹھ روز کے اندر اعتماد کا ووٹ لینا لازم ہوتا ہے لیکن قواعد میں یہ گنجائش بھی ہے کہ اگر کوئی رکن چاہے تو وہ تین روز کا نوٹس دے کر اعتماد کے ووٹ کی قرار داد پیش کرسکتا ہے۔

پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی سید نوید قمر کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے انتیس مارچ کی صبح دس بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

حکمراں اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کے دوران بھی تمام ارکان اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دارالحکومت میں ہی موجود رہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ ان کی جماعت کے وفاقی وزیر صدر جنرل پرویز مشرف سے مجبوراً حلف لیں گے لیکن وہ جنرل مشرف کو قانونی صدر نہیں مانتے اور انہیں عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔

پیر کے روز پاکستان کی نو منتخب قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو نیا قائدِ ایوان منتخب کیا تھا۔ انہیں 264 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مدِمقابل امیدوار چودہری پرویز الہٰی نے صرف 42 ووٹ حاصل کئے تھے۔

یوسف رضا گیلانی تیس برس کا سفر
ضلع کونسل چئرمین سے وزارتِ عظمٰی تک
امین فہیمپارٹی کو نقصان نہیں
’عہدوں کے پیچھے اصول توڑنا درست نہیں‘
مشرفاقتدار کے ایوانوں میں
ایوان صدر اور پارلیمان میں احتیاط کا راج
زرداری ہاؤسزرداری ہاؤس
اسلام آباد کا مصروف ترین گھر
فہمیدہ مرزاکون کون سپیکر رہا
فہمیدہ مرزا پہلی خاتون سپیکر منتخب ہوئیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد