سندھ کابینہ نےحلف اٹھا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی اکیس رکنی کابینہ نے جمعہ کو حلف لے لیا ہے، جس میں چار خواتین اور دو اقلیتی اراکین بھی شامل ہیں۔ کابینہ میں شامل کیے جانے والے وزراء میں سے ایک کے سوا سب کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور سندھ کابینہ میں متحدہ قومی موومنٹ کی شمولیت کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے رابطے جاری ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ ورکرز کنونشن میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔ کابینہ کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں جمعہ کی شام منعقد ہوئی اورگورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے کابینہ سے حلف لیا۔ حلف اٹھانے والے وزراء میں آغا سراج درانی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، مراد علی شاہ، سسی پلیجو، شازیہ مری، سیف اللہ دھاریجو، پیر مظہر الحق، نادر مگسی، منظور وسان، توقیر فاطمہ، نرگس این ڈی خان، ساجد جوکھیو، اختر جدون، عبد الحق بھرٹ، مکیش کمار چاؤلہ، علی نواز شاہ، جام مہتاب ڈہر دیا رام، عبد الجلیل میمن، ایاز سومرو اور اے این پی کے امیر نواب شامل ہیں۔ سندھ میں وزراء کے محکموں کا بھی اعلان کردیا گیا ہے، جس کے تحت پیر مظہرالحق کو سینئر وزیر کے ساتھ تعلیم اور کرمنل پراسیکیوشن، ذوالفقار مرزا کو محکمۂ داخلہ، جنگلات اور وائلڈ لائف، علی نواز شاہ کو زراعت، منظور وسان کو ورکس اینڈ سروسز، ایاز سومرو کو قانون، اسپورٹس اور امورِ نوجوانان، مراد علی شاہ کو ریونیو، لینڈ یوٹیلائزیشن، نادر مگسی کو خوراک، آغا سراج درانی کو بلدیاتی ادارے، سیف اللہ دہاریجو کو آبپاشی، ساجد جوکھیو کو زکوٰت و عشر، اختر جدون کو ٹرانسپورٹ، جام مہتاب پاپولیشن ویلفیئر، امیر نواب کو لیبر، عبدالحق بھرٹ کو لائیواسٹاک، مکیشن کمار ایکسائز، سسی پلیجو سیاحت اور ثقافت، شازیہ مری اطلاعات، نسیم این ڈی خان سوشل ویلفیئر، توقیر فاطمہ وومین ڈویلپمنٹ، عبدالجلیل میمن کوآپریٹو سوسائٹیز جبکہ دیا رام اقلیتی امور کے وزیر ہوں گے۔ کابینہ میں ایک مشیر ڈاکٹر کھٹو مل جیون کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہیں معدنیات کا قلمدان دیا گیا ہے، جس کے بعد کابینہ میں اقلیتوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اراکینِ کابینہ حلف برداری کے بعد بلاؤل ہاؤس پہنچے جہاں بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی تصویر پر پھول چڑھائےگئے۔
بعد میں صوبائی کابینہ کے اراکین نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی، اس موقع پر وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے بعد میں اس میں توسیع کی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کو بیروزگاری، امن امان ، تعلیم صحت سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے گزشتہ دس سالوں میں عوام کو بنیادی سہولیت اور حقوق نہیں ملے ہیں۔گزشتہ چند روز میں انہوں نے تبدیلی محسوس کی ہوگی ۔ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں امن امان بگاڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نو اپریل کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تحقیقات جاری ہے، جو جیسے ہی مکمل ہوئی تو اسے ظاہر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ سے رابطہ جاری ہیں ان کی کابینہ میں شمولیت پر بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’دونوں جماعتوں میں ڈیڈ لاک کسی حد تک ختم ہوا ہے گورنر ہاؤس میں زیادہ بات تو نہیں ہوئی مگر اندازہ ہے کہ جو کمیٹیاں بنی تھیں ان کی ملاقات ہوگی، آگے بڑھیں گے اور بات چیت کے لیے راہ ہموار کریں گے‘۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کا مشیر داخلہ رحمان ملک کے توسط سے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے رابطہ جاری ہے، اس سلسلے میں انہوں نے لندن میں متحدہ کے سربراہ الطاف حسین سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں متحدہ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رابطے جاری ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں کراچی: بار کے رہنما کا گھر بھی نذرِ آتش09 April, 2008 | پاکستان سندھ کی کابینہ کا جلد اعلان11 April, 2008 | پاکستان وزیرِاعلٰی کا حلف، سیاسی تعطل جاری08 April, 2008 | پاکستان تین چینلز تین گھنٹے تک بند07 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||