BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 April, 2008, 10:48 GMT 15:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ کی کابینہ کا جلد اعلان

ایم کیو ایم اور پی پی پی میں رابطے جاری ہیں
سندھ کابینہ کی حلف برداری جمعرات کی شام گورنر ہاؤس میں منعقد کی جا رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی شمولیت کے پیپلز پارٹی کی جانب سے رابطے جاری ہیں۔

پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کابینہ پندرہ سے زائد اراکین پر مشتمل ہوگی، جس میں تین خواتین اور مشیر بھی شامل ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کو بھی کابینہ میں نمائندگی دی جارہی ہے۔ صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر اے این پی نے پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔

گورنر ہاؤس میں حلف برداری کی تقریب منعقد کی جارہی ہے، جہاں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کابینہ سے حلف لیں گے۔ اس سے قبل ان تمام اراکین کو وزیر اعلیٰ ہاؤس طلب کیا گیا ہے۔

کراچی میں بدھ کے روز ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد مشیر داخلہ رحمان ملک نے متحدہ قومی موومنٹ سے تعاون کی درخواست کی، جس کے بعد رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت تمام اراکین اسمبلی اور ناظمین پر عوام کو پرامن رکھنے کے لیے رابطے میں رہنے کی ذمے داری عائد کی گئی۔

جس کے بعد گزشتہ دو روز سے پیپلز پارٹی کا مشیر داخلہ رحمان ملک کے توسط سے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے رابطہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے لندن میں متحدہ کے سربراہ الطاف حسین سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں متحدہ کے پارلیمانی پارٹی کے ڈپٹی رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رابطے جاری ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی میں متحدہ کی لندن اور پاکستان میں موجود قیادت سے رابطے کیئے ہیں اور مزید مذاکرات جاری ہیں۔

سندھ اسمبلی میں سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم پر تشدد اور خواتین اراکین سے نازیبا رویہ کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا تھا، جس کے بعد دونوں جماعتوں میں جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ۔

اس دوران مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین بھی متحدہ کے مرکز نائین زیرو گئے تھے۔ جس کے بعد کچھ رہنماؤں کے بیانات سے دونوں جماعتوں میں دوریاں مزید بڑھ گئیں۔

واضح رہے کہ موجودہ اسمبلیوں کے قیام کے بعد متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی میں دو مرتبہ رابطے ہوچکے ہیں مگر دونوں دیرپا ثابت نہیں ہوئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے نائین زیرو پر آنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت کی تھی۔

اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات کے بعد ایک مرتبہ پھر اختلافات نے جنم لیا، متحدہ قومی موومنٹ کا موقف ہے کہ ورکرز کنونشن میں مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائیگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد