BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 April, 2008, 17:26 GMT 22:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب:حکومت سازی کا فارمولا طے

 مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کے رہنما
صوبائی کابینہ میں مسلم لیگ نواز کے وزراء کی تعداد بائیس ہوگی جبکہ پیپلز پارٹی کو کابینہ میں تیرہ وزرات ملیں گی
صوبہ پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان فارمولا طے پاگیا ہے۔اس فارمولہ کے تحت صوبائی کابینہ میں ارکان کی تعداد زیادہ سے زیادہ پینتیس ہوگی۔

اس بات کا اعلان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نےحکومت سازی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کےبعد اخبارنویسوں سےگفتگو کرتے ہوئے کیا۔

پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس مسلم لیگ نواز کے صدرشہباز شریف کی رہائشگاہ پر ہوا جس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے چودھری احمد مختار، راجہ پرویز اشرف اور پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض جبکہ مسلم لیگ نواز کی طرف سے شہباز شریف، اسحاق ڈار، چودھری نثار علی خان اور خواجہ آصف نے اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔

اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما پرویز اشرف نے بتایا کہ اجلاس میں دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کا معاملہ طے پاگیا ہے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مسلم لیگ نواز کے ہونگے جبکہ پینتیس رکنی صوبائی کابینہ تشکیل دی جائےگی۔ اس موقع پر مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ قاف نے پنجاب میں ستر رکنی کابینہ بنائی تھی جس میں تینتالیس وزراء تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کابینہ کے ارکان کی تعداد کو کم کیا جائے اور مسلم لیگ قاف کے مقابلہ میں نئی صوبائی حکومت کی کابینہ کی تعداد زیادہ سے زیادہ پنتیس ہوگی۔

راجہ پرویز اشرف نےایک سوال پر بتایا کہ صوبائی کابینہ میں مسلم لیگ نواز کے وزراء کی تعداد بائیس ہوگی جبکہ پیپلز پارٹی کو کابینہ میں تیرہ وزرات ملیں گی۔

وزراء نامزد کرنے میں آزاد
 پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز وزراء نامزد کرنے میں خود مختار ہونگے صوبائی کابینہ میں اتحادی مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ مجلس عمل کو بھی شامل کیا جائے گا
شہباز شریف

ایک دوسرے سوال پر اسحاق ڈار نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں سپیکراورڈپٹی سپیکر کا عہدہ مسلم لیگ نواز کے پاس ہوگا۔

اس موقع پر وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے وضاحت کی کہ انہوں نے اپنے کسی بیان میں صدر پرویز مشرف کو قومی اثاثہ نہیں کہا۔ ان کے بقول وہ ایسا کہنے کا سوچ بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک صدر پرویز مشرف کا تعلق ہے تو اس بارے میں جو کچھ آئین کہتا ہے اس کے مطابق ہی چلنا ہے نہ اس سے آگے جاسکتے اور نہ پیچھے۔

ادھراجلاس کے بعد مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کابینہ مرحلہ وار تشکیل دی جائے گی تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں کیاگیا کہ کتنے مرحلوں میں کابینہ کی تشکیل مکمل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت آٹھ وزراتوں کو ضم کردے گی اور کابینہ کے ارکان کی تعداد پینتیس سے زیادہ نہیں ہوگی۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز اپنی اپنی جماعت کی طرف سے وزراء نامزد کرنے میں خود مختار ہیں۔ان کے بقول صوبائی کابینہ میں ان کے اتحادی مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ مجلس عمل کو بھی شامل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس نو اپریل کو ہو رہا ہے جس میں پنجاب اسمبلی کے نومنتخب ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔

آصف زرداریمنتقلی اقتدار میں دیر
عوامی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟
کنور دلشادانتخابی نتائج
الیکشن کمیشن نےنتائج کا اعلان کر دیا
بگٹی پناہ گزیننئی حکومت کا چیلنج
کیا بگٹی پناہ گزینوں کے حالات بدلیں گے؟
اسفندیار ولیسرحد کا سیاسی منظر
’اتحاد کوئی بھی وزارتِ اعلٰی اے این پی کی‘
اسفندیار ولیاے این پی سندھ میں
سندھ میں پختونوں کی پہلی بار دو سیٹیں
سندھ یا مسائلستان
حکومت سازی اور آئندہ چیلنجز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد