BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 April, 2008, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میڈیا قوانین کا خاتمہ یا ترامیم

پیمرا قوانین کے خلاف احتجاج
سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی پیمرا قوانین کے خلاف احتجاج کر تی رہی ہیں (فائل فوٹو)
پاکستان حکومت نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے میڈیا پر عائد پابندیوں کے قوانین ختم کرنے اور دیگر متنازعہ قوانین میں ترمیم کرنے کی منظوری دی ہے۔

یہ بات وزیراطلاعات و نشریات شیری رحمٰن نے کابینہ کے اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی صدرات میں منعقد کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے بعد دس اپریل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں متعلقہ قوانین کی تنسیخ اور ترمیم کے بل پیش ہوں گے۔


انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس تین نومبر کو صدر پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے وقت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں نافذ کیے جانے والے قوانین کو ختم کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ میڈیا پر صدر مشرف کے پابندیوں کے بارے میں قوانین میں جہاں اشاعتی اور نشریاتی اداروں کے لائیسنس منسوخ کرنے، بنا نوٹس آلات ضبط کرنے اور متعلقہ صحافیوں اور میڈیا مالکان کو گرفتار کرنے کے اختیارات حکومت کو دیے گئے تھے وہاں انہیں بھاری جرمانے عائد کرنے کا بھی حق حاصل تھا۔

متعلقہ قوانین کے تحت صدر، افواج پاکستان، عدلیہ، اور اراکین اسمبلی پر تنقید کرنے پر بھی پابندی تھی اور خلاف ورزی کرنے والے کو فوری گرفتار کرنے کا حکومت کو اختیار حاصل تھا۔

بینکوں سے بے تحاشہ قرضے لیے
 سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت نے بینکوں سے بے تحاشہ قرضے لیے ہیں جس کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی قرضوں اور ان پر ادا کی جانے والی شرح سود کی رقم حد سے زیادہ ادا کرنی پڑے گی
اسحاق ڈار

شیری رحمٰن نے کہا کہ ’پیمرا کے امتیازی قوانین کا خاتمہ نئی جمہوری حکومت کی جانب سے میڈیا کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے‘۔

بریفنگ کے دوران وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی موجود تھے اور انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت اور نگران حکومت نے نئی جمہوری حکومت کے لیے وسائل نہیں بلکہ مسائل کا انبار چھوڑا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سابقہ حکومت عوام کو گمراہ کرنے کے لیے غلط بیانی کرتی رہی جبکہ ان کے بقول حقائق ان کے دعوؤں کے برعکس ہیں۔

انہوں نے سابقہ حکومت پر اعداد و شمار میں ہیر پھیر کا الزام عائد کیا اور انہیں تمام اقتصادی برائیوں کی جڑ سے تعبیر کیا۔

تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حالات کو سنبھالیں گے اور تمام شعبوں میں بہتری لانے اور ابتری کو کم سے کم کرنے کے اقدامات اٹھائیں گے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت نے بینکوں سے بے تحاشہ قرضے لیے ہیں جس کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی قرضوں اور ان پر ادا کی جانے والی شرح سود کی رقم حد سے زیادہ ادا کرنی پڑے گی۔

اسی بارے میں
پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور
15 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد