BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 21:54 GMT 02:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چینلز پرکارروائی کے خلاف واک آؤٹ

ٹی وی چینل
دو نجی ٹی وی چینلز کے خلاف حکومتی کارروائی پر احتجاج
جمعرات کو دو نجی ٹی وی چینلز کے خلاف حکومتی کارروائی پر احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں اور حزب مخالف نے قومی اسمبلی سے علامتی واک آوٹ کیا اور اپوزیشن نے میڈیا پر قدغن کے بارے میں تفصیلی بحث کے لیے چھ تحاریک التوا بھی پیش کیے۔

ایک ٹی وی چینل کو آج نشریات بند کرنے کے بارے میں شو کاز نوٹس ملنے اور رائل ٹی وی کی نشریات مبینہ طور پر بند کرنے کے خلاف پہلے صحافیوں نے قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا بعد میں اپوزیشن نے بھی ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

راجہ پرویز اشرف، لیاقت بلوچ اور تہمینہ دولتانہ سمیت حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے کئی اراکین نے نکتہ اعتراضات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’پیمرا‘ کے ذریعے میڈیا پر پابندیاں عائد کرکے اظہار رائے کا حق صلب کر رہی ہے۔

حزب مخالف کے اراکین نے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ عدالتی بحران کی کوریج کے حوالے سے حکومت میڈیا کو حقائق عوام کے سامنے لانے سے روک رہی ہے۔

وزیر محنت غلام سرور خان اس دوران پریس لاؤنج میں آئے اور صحافیوں کو یقین دلایا کہ وہ ’پیمرا‘ کی جانب سے کی گئی کارروائی کی تحقیقات کرائیں گے اور اگر بلا وجہ انہوں نے کوئی اقدام کیا ہوگا تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

الیکٹرانک میڈیا ابلاغ کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی ’پیمرا، کے بارے میں حکومت کہتی ہے کہ وہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔

حزب مخالف کا موقف ہے کہ حکومت اس ادارے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ جبکہ حکومت اس تاثر کو رد کرتی ہے۔

حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے جانب سے نجی ٹی وی جیو کے دفتر پر حملے، آج کو شوکاز نوٹس دینے، رائل ٹی وی سمیت مختلف چینلز کی نشریات منقطع کرنے اور صحافیوں کو دھمکیاں دینے کے بارے میں ملتی جلتی چھ تحاریک التویٰ قومی اسمبلی میں پیش کیں۔

حکومت نے ان کی مخالفت کی اور سپیکر نے کہا کہ اس بارے میں ایوان کے آئندہ اجلاس میں بحث کرائی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد