تین چینلز تین گھنٹے تک بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے چند بڑے شہروں میں تین نجی نیوز چینل جیو، اے آر وائی اور ڈان نیوز کی نشریات تین گھنٹے بند رہیں۔ پیر کی شام سات بجے کراچی ، حیدرآباد اور سکھر کے علاقوں میں اچانک ان چینلز کی نشریات معطل ہوگئی تھیں جو دس بجے کے بعد بحال ہوگئیں۔ دن بھر یہ نیوز چینل سندھ اسمبلی سے لائیو کوریج کر رہے تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی خصوصی کوریج شامل ہے۔ اس بارے میں پیمرا نے چینلز کی بندش سے لاتعلقلی کا اظہار کیا تھا۔ پیمرا کے ترجمان کے مطابق کچھ ایسے عناصر ہیں جو حکومت کے خلاف حرکت میں ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے بھی چینلز کی بندش کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی اور صوبائی حکومت فوری طور پر ان عناصر کو بےنقاب کرے ۔ کچھ کیبل آپریٹرز نے چینلز کی بندش سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ فنی خرابی کے باعث نشریات معطل ہوگئیں۔ اسمبلی کا اجلاس شام گئے تک جاری رہا اور سندھ اسمبلی میں صحافیوں نے چینلز کی نشریات کی بندش کے خلاف احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما پیر مظہرالحق کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کی حکومت نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا اور یہ ان عناصر کی کارروائی ہے جو پیپلز پارٹی کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے رہنما مظہر عباس کا کہنا تھا کہ بظاہر تو لگتا ہے کہ جس طرح لائیو کوریج دکھائی گئی یہ اسی کا رد عمل ہے۔ اس سے پہلے بھی لائیو کوریج پر ردعمل کا اظہار ہوتا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر دونوں ملوث ہوسکتے ہیں۔ کچھ پریشر گروپ بھی ایسی حرکت کرتے ہیں مگر حتمی طور پر رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت ٹی وی چینلز کی نشریات پر پابندی عائد کردی گئی تھی تاہم موجودہ حکومت کے قیام کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||