حُبِ وطن بنام حُبِ سرکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد بیشترٹی وی چینلوں پر غیرذمہ دار اور غیر محبِ وطن ہونے کے الزام میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ان میں سے جو چینل حُب الوطنی کی سرکاری توضیح کو مانتے ہوئے اس پر عمل درآمد کےلئے تیار ہیں حکومت انہیں بخوشی کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دے دے گی لیکن ’وطن دشمن‘ٰ چینل اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ اِن چینلوں کے اینکرمین ایک ٹی وی پروگرام میں جمع ہو کر اِس تشویش کا اظہار کر چُکے ہیں کہ چینل مالکان مسلسل مالی نقصانات کے باعث سرکاری دباؤ میں آجاتے ہیں تاہم ان نشرکاروں نے اپنے اس عہد کا اعلان بھی کیا کہ وہ درباری احکامات کی پیروی میں، عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے یا غلط اطلاعات فراہم کرنے کی سازش میں کبھی ملوث نہیں ہوں گے خواہ اس کےلئے انھیں نوکری ہی سے ہاتھ کیوں نہ دھونے پڑیں۔ ان نشرکاروں کےلئے شاید یہ بات حوصلے کا باعث بنے کہ وہ اس جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسی انوکھی صورتِ حال ہے جو تاریخ میں پہلی بار پیش آئی ہو۔امریکہ جیسے مہذب ترقی یافتہ اور جمہوری ملک میں بھی حق گوئی و بیباکی کے پرستار فن کاروں کو سرکاری مشینری کے جبر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آزادی صحافت کی ہو یا عدلیہ کی، ادب کی ہو یا فنونِ لطیفہ کی، کبھی تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کی جاتی۔ آزادی کا حصول جہدِ مسلسل اور قربانی و ایثار کا تقاضہ کرتا ہے۔ ماہِ نومبر کی 25 تاریخ ہمیں یاد دہانی کراتی ہے کہ آج سے پورے ساٹھ برس پہلے ہالی وُڈ میں ایسے اداکاروں، مصنفوں، ہدایتکاروں اور فلمی شعبے سے تعلق رکھنے والے دیگر کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی تھی جو حُب الوطنی کی سرکاری تعریف پر پورے نہیں اترتے تھے اور جنہیں امریکی حکومت نے قوم کےلیے خطرہ قرار دیا تھا۔
غیر محبِ وطن کاروائیوں پر نگاہ رکھنے کےلیے کانگریس کی جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس نے ان تمام فنکاروں اور ادیبوں کی فہرستیں تیار کیں جو حکومت کے خیال میں کمیونسٹ خیالات رکھتے تھے اور اپنی فلموں کے ذریعے محنت کشوں اور پِسے ہوئےطبقوں کے حق میں آواز اٹھا کر بالواسطہ طور پر اشتراکی نظریات کے پرچار کا سبب بن رہے تھے۔ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے ہر ملزم سے یہ سوال ضرور کیا جاتا کہ کیا تم کمیونسٹ پارٹی کے رکن ہو یا ماضی میں کبھی رکن رہے ہو۔ جن فنکاروں نے اس سوال کو ذاتی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا اُن کو’کانگریس کی توہین‘ کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔جیل جانے والوں میں آسکر ایوارڈ یافتہ مصنف اور ہدایتکار بھی شامل تھے۔ پاکستان کے ’باغی نشر کاروں‘ کو البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب ہالی وڈ کے باغیوں پر مقدمہ چلا تھا تو استغاثہ محض سٹوڈیومالکان پر مشتمل نہیں تھا۔ کانگریس کی خصوصی کمیٹی کے سامنے بیان دینے والی کئی معروف فلمی شخصیتوں نے خود اپنے ساتھیوں کے خلاف بیانات دیئے۔ مثلاً اداکار گیری کُوپر نے معتوب فنکاروں کے بارے میں کہا کہ’ یہ لوگ اشتراکی موضوعات پر فلمیں بناتے ہیں اور میں نے تو اِن کی کئی فلموں میں کام کرنے سے انکار کر دیا ہے‘۔ سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن 1947 میں ایک فلمی اداکار تھے اور اداکاروں کی یونین کی صدر بھی ۔ انھوں نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے فخریہ طور پر کہا کہ ہم نے اپنی یونین میں ایسے تمام افراد کی نشان دہی کر دی ہے جو وطن دشمن خیالات رکھتے ہیں، ہم اِن سب لوگوں کو چُن چُن کے نکال دیں گے۔ ’مِکّی ماؤس‘ کے خالق اور کارٹون فلموں کے روح و رواں والٹ ڈزنی نے کُھلے بندوں محنت کش برادری اورمزدور لیڈروں کی مخالفت کی اور انھیں امریکہ کےلئے خطرہ قرار دیا۔ کانگریس کمیٹی کے سامنے ان کے بیان کا کچھ حصّہ نذرِ قارئین ہے۔ کمیٹی: آپ کے خیال میں فلمی صنعت کو اِن عناصر سے کس طرح پاک کیا جاسکتا ہے؟ والٹ ڈزنی ایک سٹوڈیو کے مالک تھے، جہاں ہزاروں لوگ ان کے لیے کام کرتے تھے۔انہیں اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ اگر محنت کشوں میں اتحاد پیدا ہوگیا تو مالکان اُن سے من مرضی کا کام نہیں لے سکیں گے۔ والٹ ڈزنی کی طرح دیگر سٹوڈیو مالکان بھی اسی خدشے میں مبتلا تھے چنانچہ سب مالکان نےگٹھ جوڑ کر کے ایسے تمام افراد کو ملازمت سے خارج کردیا جو محنت کشوں کی بے چینی کو ایک تحریک میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ان اداکاروں، ادیبوں اور ڈائریکٹروں کا روزگار چھِینتے وقت اِن پر محض غیر محبِ وطن ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں کینوس پر تیل اور پانی کا ملاپ24 May, 2007 | فن فنکار لاہور: ظروف سازی کی منفرد نمائش09 February, 2007 | فن فنکار شیکسپیئر لاہور میں28 January, 2007 | فن فنکار امریکی فلم کی شوٹنگ لاہور میں16 January, 2007 | فن فنکار مشترکہ فلم سازی، مگر کس کے ساتھ؟22 December, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||