BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جلسے براہراست دکھانے کی شرائط

پی پی پی کا سیاسی جلسہ
براہ راست کوریج سے سیاسی ماحول خراب ہو سکتا ہے: پیمرا
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کے ترجمان نے کہا ہے کہ نجی ٹی وی چینلوں پر مختصر دورانیے کے لیے انتخابات کے جلسے جلوسوں کی براہ راست کوریج پر پابندی نہیں ہے بلکہ ایسی کوریج زیادہ دیر تک دکھانے پر پابندی ہے تاہم وہ چینل لائیو کوریج نہیں دکھاسکتے جنہوں نے اس کے لیے تاخیری نظام نہیں لگایا ہوا۔

پیمرا کے سربراہ افتخار رشید نے گزشتہ روز کراچی میں ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور نجی ٹی وی چینلوں کے مالکان کے درمیان متفقہ طور پر طے پانے والے ضابطۂ اخلاق کے تحت چینل سیاسی جلسے جلوسوں کی براہ راست کوریج نہیں کریں گے۔

صحافتی آزادی کے خلاف
 ’یہ اقدام ٹی وی چینلوں کے خبری مواد کو کنٹرول کرنے کے مترادف ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیمرا اب ٹی وی چینلوں کے نیوز روم تک پہنچ گئی ہے
مظہر عباس
ان کا کہنا تھا جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں اگر ان کی براہ راست کوریج ہوگی تو اس سے انتخابات کا ماحول خراب ہوسکتا ہے۔

تاہم پیمرا کے ترجمان محمد سلیم نے منگل کے روز یہ کہا ہے کہ نجی ٹی وی چینل زیادہ دیر تک لائیو کوریج نہیں دکھا سکتے۔ انہوں نہ کہا کہ سیاسی جلسے جلوسوں کی براہ راست کوریج اس صورت میں ہو سکتی جب چینلوں کے پاس ایسا انتظام لگا ہو جس کے ذریعے براہ راست پروگرام دس پندرہ سیکنڈ تاخیر سے نشر ہوتا ہے اور کسی بھی قابل اعتراض جملے کو نشر ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے پیمرا کے اس اقدام کو آزادی صحافت پر ایک اور وار قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اقدام ٹی وی چینلوں کے خبری مواد کو کنٹرول کرنے کے مترادف ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیمرا اب ٹی وی چینلوں کے نیوز روم تک پہنچ گئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ چینلوں کو اس بات کی مکمل آزادی ہونی چاہیے کہ وہ کسی واقعے کی کتنی دیر تک کوریج کرتے ہیں ’اس میں یہ خیال رکھنا کہ کوئی غیراخلاقی جملہ نشر نہ ہو وہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن چینلوں کو اس بات کا پابند کرنا کہ وہ کونسا پروگرام دکھائیں اور کونسا نہیں اور کتنی دیر تک یہ ان کی ادارتی آزادی میں مداخلت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے ان دونوں ترمیمی آرڈیننسوں کے خلاف مسلسل احتجاج کررہی ہے جس کے ذریعے حکومت نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر نئی اور سخت پابندیاں متعارف کرائیں اور جب تک یہ سیاہ قوانین ختم نہیں ہوں گے پی ایف یو جے اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

اسی بارے میں
چینلز کو پیمرا کی نئی وارننگ
12 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد