چینلز کو پیمرا کی نئی وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے نجی ٹی وی چینلز کو ایک تازہ وارننگ جاری کی ہے جس میں انہیں واقعات کی براہ راست کوریج کرنے اور عام لوگوں کی لائیو کالز نشریات میں شامل کرنے سے باز رہنے کو کہا گیا ہے۔ ٹی وی چینلز کے مالکان کو بھیجی گئی اس وارننگ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بعض ٹی وی چینلز اپنی نشریات میں لائیو کوریج اور لوگوں کی لائیو کالز شامل کر کے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے اور لوگوں کو تشدد پر مائل کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پیمرا کا کہنا ہے کہ نجی ٹی وی چینلز کا یہ عمل (ایمرجنسی کے بعد نافذ ہونے والے) پیمرا ترمیمی آرڈیننس 2007 اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ پیمرا نے لائسنس یافتہ کیبل ٹی وی آپریٹرز کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ بھی ایسی ’خلاف قانون نشریات‘ دکھانے سے باز رہیں ورنہ انہیں بھی ایک سال تک قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا بھگتنا پڑ سکتی ہے۔ ’آج‘ ٹی وی کے مالک ارشد زبیری نے پیمرا کی جانب سے تحریری وارننگ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس پر ٹی وی چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) ہی کوئی ردعمل جاری کر سکتی ہے۔ تاہم پی بی اے کے سیکرٹری جنرل سرفراز شاہ نے رابطہ کرنے پر پیمرا کی اس تنبیہ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دو دن سے گھر پر ہیں اور انہیں اس بارے میں کچھ پتہ نہیں۔
ادھر صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے پیمرا کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وارننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا پر ایمرجنسی سولہ دسمبر کے بعد بھی برقرار رہے گی اور آنے والے دنوں میں میڈیا پر مزید سخت تو ہو سکتی ہیں نرم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو لائیو کوریج اور لائیو کالز سے روکتے ہوئے کسی شہادت کے بغیر یہ بات کہی ہے کہ لائیو کالز میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ شامل تھا۔ ان کا کہہنا تھا کہ’ اگر پیمرا کے خلاف ایسے شواہد ہیں تو سامنے لائے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ پیمرا نے یہ طے کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس ہی رکھ لیا ہے کہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی کیا بات نظریہ پاکستان کے خلاف ہے اور کیا نہیں۔مظہر عباس کے مطابق پیمرا کی اس وارننگ پر جو چینلز مالکان خاموشی اختیار کر رہے ہیں اگر وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو معاف کر دیا جائے گا تو یہ غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا اس سے ان پر سختیاں مزید بڑھیں گی۔ انہوں نے چینلز مالکان سے اپیل کی کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد متعارف کرائے گئے کالے قوانین اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف پی ایف یو جے کی جدوجہد میں شریک ہوجائیں۔ نیویارک میں بی بی سی اردو کے نمائندے حسن مجتبٰی کے مطابق صجافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم’ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے پاکستان میں پیمرا کی طرف سے پرائیویٹ چینلوں کے خلاف کارروائی کے خطوط جاری کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں نشریاتی میڈیا کو ڈرانا دھمکانا بند کر دے۔ سی پی جے کے ایشیا کے کوآرڈینیٹر بوب ڈئيزے نے کہا ہے کہ ’پاکستان میں انتخابات کے قریبی دنوں میں نیوز چینلوں پر جاری دباؤ کے ملنے والے ثبوتوں پر ہم نہایت پریشان ہیں اور مشرف حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نشریاتی میڈیا کو ڈرانا دھمکانا ترک کر دے اور اسے پاکستان میں موجودہ صورتحال کو آزادی اور بغیر کسی خوف کے نشر کرنے کی اجازت دے‘۔ | اسی بارے میں مست ایف ایم کی نشریات شروع07 December, 2007 | پاکستان دبئی: جیو کی نشریات بحال30 November, 2007 | پاکستان بدلے بدلے میرے سرکار ۔۔۔29 November, 2007 | پاکستان ایف ایم 103 کی نشریات سڑکوں پر27 November, 2007 | پاکستان کراچی میں 181 صحافی رات گئے رہا 20 November, 2007 | پاکستان دو نجی چینلز کو نشریات کی اجازت15 November, 2007 | پاکستان میڈیا پابندیاں ہائی کورٹ میں چیلنج10 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||