ایف ایم 103 کی نشریات سڑکوں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر سرکاری پابندیوں کے باعث ریڈیو چینل ایف ایم 103 کی نشریات کو بطور احتجاج سڑکوں پر لایاگیا ہے۔ کراچی کی سڑکوں پر آج کل چلتا پھرتا ایک ریڈیو اسٹیشں نظر آسکتا ہے۔ سفید رنگ کی گاڑی میں بنے اس ریڈیو اسٹیشن سے منگل کو علامتی نشریات کراچی پریس کلب کے باہر سے جاری تھیں۔ اس گاڑی پر احتجاجی پوسٹر آیزاں تھے۔ ایف ایم 103 ریڈیو چینل کے عملے نے حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کرنے کا یہ انوکھا طریقہ اپنایا ہے جس کے تحت وہ نشریاتی آلات نصب شدہ گاڑی کو کراچی پریس کلب کے سامنے لاتے ہیں، جہاں فنکار اپنے فن کا مُظاہرہ کرتے ہیں، موسیقاروں کی دھن پر گلوکار گانے گاتے ہیں۔ ریڈیو اسٹیشن کا عملہ بطور احتجاج ’دیے‘ روشن کرتے ہیں اور اسٹیشن منیجر دیگر آرٹسٹوں کے ہمراہ دیواروں اور پوسٹروں پر تحریروں اور کارٹونوں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم نہ تو سڑک بلاک کریں گے، نہ گرفتاریاں دیں گے اور نہ ہی قانوں کو ہاتھ میں لیں گے۔ ‘ اُن کا کہنا ہے کہ پیمرا کے اس اقدام سے سو سے زائد خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑگیا ہے جو ایف ایم 103 سے وابستہ ہیں۔ ایف ایم 103 کرچی کا وہ واحد ریڈیو اسٹیشن ہے جس کی نشریات پر پیمرا نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی پابندی عائد کر دی تھی اور پولیس کے ہمراہ ریڈیو اسٹیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر نشریاتی آلات ضبط کرلیے تھے۔ واضح رہے کہ ایف ایم 103 کی بندش کی ایک بڑی وجہ بی بی سی کے اُن بلیٹنز کو قرار دیا جاتا ہے جو ایف ایم 103 پر ہر گھنٹے نشر کیے جاتے تھے۔ | اسی بارے میں BBC بلیٹنز:حکمِ امتناعی میں توسیع07 September, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:اگلی سماعت26ستمبرکو18 September, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:اگلی سماعت26ستمبرکو18 September, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز: حکم امتناعی میں توسیع26 September, 2007 | پاکستان کافر مومن صورت ایک ہی: سچل سرمست 27 September, 2007 | پاکستان بلیٹنز: اگلی پیشی 31 اکتوبر کو09 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||