BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 September, 2007, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کافر مومن صورت ایک ہی: سچل سرمست

صوفی کلام کی گائیکی
سہراب فقیر اور ان کے ساتھی سچل سرمست کا کلام پڑھنے کے لیے مشہور تھے
پاکستان کے صوبہ سندھ میں صوفی شاعر سچل سرمست کی ایک سو چھیاسیویں برسی کی تقریبات کا آغاز جمعرات کے دن صوفیانہ کلام سے ہوا ہے۔

سچل سرمست ’کافر مومن صورت ایک ہی‘ جیسے کلام کو مذہبی انتہا پسندی کےدنوں میں بھی عوامی انداز میں گاتے رہتے تھے اور مذہبی پیشواؤں کو چیلنج کرتے رہتے تھے۔

سچل سرمست کا جنم 1739 میں سابق ریاست خیرپور کے چھوٹے گاؤں درازا میں ایک مذہبی خاندان میں ہوا۔ان کا اصل نام تو عبدالوہاب تھا مگر ان کی صاف گوئی کو دیکھ کر لوگ انہیں سچل یعنی سچ بولنے والا کہنے لگے۔ بعد میں ان کی شاعری کے شعلے دیکھ کر انہیں سرمست بھی کہا گیا۔

سچل سرمست کی پیدائش سندھ کے روایتی مذہبی گھرانے میں ہوئی مگر انہوں نے اپنی شاعری میں اپنی خاندانی اور اس وقت کی مذہبی روایات کو توڑ کر اپنی محفلوں میں ہندو مسلم کا فرق مٹا دیا۔ان کے عقیدت مندوں میں کئی ہندو بھی شامل ہیں۔

ان کا ایک شعر ہے:

کہاں مومن کہاں کافر ،کہاں ہے ساحری ساحر
کہاں کاتب کہاں شاعر ، جو ہی ہے اصل اوئی ہے۔

سچل کے عقیدت مند
 سچل کی محفلوں میں تو ہندو موجود ہوتے تھے مگر سچل کی درگاہ پر ان کے کئی ہندو عقیدت مندوں کی قبریں موجود ہیں، جن میں لندن سے مسز ایم ڈی لالا جو سابق سندھ زمیندار بینک کے صدر کی بیوی تھیں اور انڈین فلم پروڈیوسر شیوک رام کی بیوی نندنی شیوک رام جیسی خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی مٹی سچل کی درگاہ کےاحاطے میں دفن کرنے کی وصیتیں کی تھیں۔
سچل سرمست کے عرس کی تقریبات میں شرکت کرنے کے لیے ان کے ہندو عقیدت مند خصوصی طور پر انڈیا اور انگلینڈ سے درازا پہنچے ہوئے ہیں۔
سچل کی محفلوں میں تو ہندو موجود ہوتے تھے مگر سچل کی درگاہ پر ان کے کئی ہندو عقیدت مندوں کی قبریں موجود ہیں، جن میں لندن سے مسز ایم ڈی لالا جو سابق سندھ زمیندار بینک کے صدر کی بیوی تھیں اور انڈین فلم پروڈیوسر شیوک رام کی بیوی نندنی شیوک رام جیسی خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی مٹی سچل کی درگاہ کےاحاطے میں دفن کرنے کی وصیتیں کی تھیں۔

سچل کی ایک خاتون ہندو عقیدت مند کا ذکر اس لیے بھی آتا ہے کہ انہوں نے اپنا نام تبدیل کر کے نمانو فقیر رکھا تھا۔ان کی وفات احمد بڑودا انڈیا میں ہوئی تو ان کی مٹی بھی درازا بھیجی گئی۔ احمدآباد میں بھی رکی بائی کی سمادھی کو محفوط رکھا گیا ہے۔

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور میں قائم سچل چیئر کے سربراہ الطاف اثیم کا کہنا ہے کہ سچل کا کلام سندھ میں صوفی ازم کے سفر کی کہانی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی زندگیوں میں ستر برس کا فاصلہ ہے۔

سچل سرمست کا مزار
سچل ستر برس بعد جب صوفیانہ شاعری میں آیا تو ان کی وجدانیت بھی منفرد تھی۔ان کے ساتھ صوفی ازم کی موسیقی نے بھی سرمستی کا سفر کیا اور شاہ بھٹائی کے نسبتاً دھیمے لہجے والے فقیروں سے سچل کے فقیروں کا انداز بیان منفرد اور بیباک تھا۔

سچل سرمست نے سندھ کے کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے ایسے دور اقتدار میں زندگی بسر کی جب مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر تھی۔انہوں نے اپنے آس پاس مذہبی نفرتوں کو دیکھ کر سندھی میں کہا:

مذہبن ملک میں ماٹھو منجھایا، شیخی پیری بیحد بھلایا۔

جس کا سادہ ترجمہ اس طرح ہے کہ مذہبوں نے ملک میں لوگوں کو مایوس کیا اور شیخی، پیری نے انہیں بھول بھلیوں میں ڈال دیا ہے۔

سچل اور بھٹائی
 سچل ستر برس بعد جب صوفیانہ شاعری میں آیا تو ان کی وجدانیت بھی منفرد تھی۔ان کے ساتھ صوفی ازم کی موسیقی نے بھی سرمستی کا سفر کیا اور شاہ بھٹائی کے نسبتاً دھیمے لہجے والے فقیروں سے سچل کے فقیروں کا انداز بیان منفرد اور بیباک تھا۔
سچل سرمست نوّے برس کی عمر میں چودا رمضان 1242 ھجری میں وفات کر گئے۔وہ شادی شدہ تھے مگر ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔انہوں نے بنیادی عربی فارسی کی تعلیم اپنے خاندان کے بزرگ اپنے چچا مرشد اور سسر خواجہ عبدالحق کےہاں حاصل کی۔

سچل اپنے گاؤں درازا سے باہر سفر پر کم ہی نکلتے تھے مگر ایک شاعر مختیار ملک کے مطابق ان کی شاعری میں بائبل کے ان لفظوں کا ترجمہ ملتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خدا نےاپنے بندوں کو اپنی تصویر جیسا تخلیق کیا ہے۔ سچل کےایک سندھی شعر کا ترجمہ ہے کہ

کیا مٹی کا قدر ہوا کہ فرشتوں نے خود سجدہ کیا۔

سچل سرمست کا کلام سندھی، اردو، عربی، فارسی اور سرائیکی میں موجود ہے۔ انہیں اور ان کا کلام سنانے والے فقیروں کو سندھ میں ایک منفرد مقام اس لیے بھی حاصل ہے کہ کسی بھی محفل میں جب بھی مذہبی انتہا پسندی کو للکارا جاتا ہے تو آج بھی سہارا سچل کا لیا جاتا ہے۔

سچل کی برسی کی تقریبات آئندہ دو روز تک درازا خیرپور میں جاری رہیں گی۔

اسی بارے میں
’گرو کے سچے سیوک‘
12 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد