BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 April, 2007, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گرو کے سچے سیوک‘

سورن سنگھ کے اہل خانہ
امرتسر کے تاجر سورن سنگھ ہر سال دو مرتبہ پاکستان آتے ہیں
اسلام آباد کے مغرب میں تقریباً پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر حسن ابدال میں واقع گرودوارہ پنجہ صاحب میں جمعرات سے سکھوں کے تہوار بیساکھی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

بیساکھی کا یہ تین سو آٹھواں میلہ ہے اور سکھ مذہب کے مطابق بابا گرو نانک کے جنم دن کے بعد سکھ مذہب کا یہ دوسرا بڑا تہوار ہے۔ حسن ابدال میں بیساکھی کی یہ تقریبات تین دن تک جاری رہیں گی۔

بیساکھی کا تہوار منانے ویسے تو ہندوستان سمیت مختلف ممالک سے ہزاروں سکھ گرودوارہ پنجہ صاحب آتے ہیں لیکن امرتسر بھارت کے باسی سورن سنگھ کی کہانی سب سے مختلف ہے۔

وہ ایک سچے گرو سیوک کی طرح گرد وارے میں آنے والوں کے جوتوں کی گزشتہ پندرہ سال سے بغیر کسی معاوضے کے حفاظت کرتے ہیں۔

سورن سنگھ ہر سال دو مرتبہ پاکستان آتے ہیں۔ بابا گرو نانک کے جنم دن اور بیساکھی کے مواقع پر وہ ’جوڑا گھر‘ میں جہاں جوتے رکھے جاتے ہیں، دن رات کام کرتے ہیں۔ پچاس سالہ سورن سنگھ اس سال بھی اپنے پورے گروپ کے ساتھ جن میں ان کے بچے اور بھائی شامل ہیں، بیساکھی کے موقع پر گردوارہ پنجہ صاحب کے ’جوڑا گھر‘ میں جوتوں کی رکھوالی پر لگے ہوئے ہیں۔

سورن سنگھ پندرہ سال سے بیساکھی کے تہوار پر بغیر کسی معاوضے کے جوتوں کی حفاظت کرتے ہیں

سفید رنگ کی پگڑی باندھے سوارن سنگھ کا کہنا ہے کہ اُنہیں اور اُن کے ساتھیوں کو خاص طور حکومت پاکستان کی جانب سے پندرہ دن کے لیے خدمت کا ویزا دیا جاتا ہے اور وہ باقی سکھ یاتریوں سے دو دن پہلے آتے ہیں اور دو دن بعد جاتے ہیں۔

امرتسر کے تاجر سورن سنگھ بنیادی طور پر سکیورٹی گارڈز کے لیے آہنی چوکیاں بناتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے باپ دادا بھی امرتسر میں ’جوڑا گھر‘ کی خدمت کرتے تھے اور اب وہ اور اُن کے بچے بھی اسی خدمت پر لگے ہوئے ہیں۔

سورن سنگھ ہر سال بیساکھی کے میلے پر تقریباً دس ہزار جوتے سنبھالتے ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ پاکستان میں گرد واروں میں حاضری کے ساتھ اُنہیں خدمت کا بھی موقع ملتا ہے اور وہ یہ سب اپنے سکون اور خوشی کے لیے کرتے ہیں۔

سورن سنگھ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اُنہیں موقع دیا جائے کہ وہ لاہور میں داتا دربار کے عرس کے موقع پر بھی بغیر پیسے لیے عرس پر آنے والے زائرین کے جوتوں کی رکھوالی کریں۔

ان کا کہنا تھا: ’میں سوچتا ہوں کہ وہ لوگ جن کے پاس اپنے جوتوں کی حفاظت کے لیے دینے کو پانچ روپے تک نہ ہوں وہ داتا صاحب کا درشن بھی نہیں کر سکتے ہوں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کے عرس کے موقع پر زائرین کی خدمت کروں تاکہ اُنہیں یہ ڈر نہ ہو کہ جوتوں کی حفاظت کے لیے انہیں پیسے دینے پڑیں گے‘۔

گرونانک کا پنجہ
حسن ابدال: گردوارہ پنجہ صاحب میں بیساکھی
وزیراعظم شوکت عزیزبیساکھی کا میلہ
وزیراعظم کی طرف سے خصوصی بسیں
بہترّ سالہ جوگندر دوست کی تلاش میں
جوگندر بیساکھی میلے میں دوست کی تلاش میں
اسی بارے میں
حسن ابدال میں بیساکھی
13 April, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد