با با بلّھے شاہ کا عرس شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برصغیر کے معروف صوفی شاعر بابا بلّھے شاہ کے دو سو پچاسویں عرس میں شرکت کے لیے اکیاون رکنی ہندوستانی وفد پاکستان کے شہر قصور پہنچ گیا ہے جہاں عرس کی رنگا رنگ تقریبات جاری ہیں۔ ہندوستانی وفد کے چند اراکین پہلے ہی لاہور پہنچ چکے تھے جبکہ باقیوں نے اتوار کی صبح واہگہ کے مقام سے باڈر پار کیا۔ ہندوستانی وفد کی سربراہی رکنِ پارلیمان نرملا دیش پانڈے کررہی ہیں جبکہ وفد میں مجموعی طور پر پانچ ممبر پارلیمان، دو سابق وزراء، مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ، صحافی اور دانشور شامل ہیں۔ نرملا دیش پانڈے اور وفد میں شامل ادیب کلدیپ نئیر کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے لیے عرصہ دراز سے سرگرم ہیں۔ پاکستان میں میزبان تنظیم بلّھے شاہ انٹرنیشنل فورم کے سربراہ چودھری منظور نے کہا کہ با با بلّھے شاہ اور ان جیسے صوفیاء اور شعراء اپنے انقلابی کلام سے انسانوں کو آپس میں جوڑتے ہیں اور ان کی ذات یقینی طور پر ہندوستان اور پاکستان کے امن عمل پر مثبت انداز میں اثر انداز ہوگی۔ چودھری منظور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستان کے رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلھے شاہ نے اپنے کلام میں تمام انسانوں کے درمیان پیدا کردہ تفریق اور تقسیم کی نفی کی ہے۔ وہ ملک، قوم، نسل، مذہب، فرقے سے بلند ہوکر سوچتے تھے اس لیے ان کا پیغام آفاقی قدروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ بابا بلھے شاہ کے ہندوستانی پرستار ان کے مزار پر چادر چڑھانے کے بعد ’صلح کل کانفرنس‘ میں شرکت کریں گے۔
اس تقریب میں دونوں ملکوں کے دانشور، ادیب، شاعر اور سیاستدان اظہارِ خیال کریں گے۔ بعد میں صوفیانہ شاعری پر مبنی موسیقی کا ایک پروگرام ہوگا جسے ’شامِ تھیہ تھیہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انڈیا سے آنےوالوں میں معروف گلوکار ہنس راج ہنس بھی شامل ہیں۔ توقع ہے کہ اتوار کی شام ہونے والے موسیقی کے پروگرام میں وہ بھی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ قصور میں اتوار کو شروع ہونے والے بابا بلّھے شاہ کے عرس کی تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔ ہندوستانی وفد اٹھائیس اگست کو واپس لوٹ جائے گا۔ با با بلّھے شاہ کا مزار لاہور کے نواحی شہر قصور میں ہے جہاں ہر برس ان کا عرس بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ ہر بار کی طرح اس برس بھی نیاز بانٹی جا رہی ہے، دیئے جلائے جا رہے ہیں اور ان کے کلام پر مبنی قوالیاں گائی جارہی ہیں۔ بلّھے شاہ سنہء سولہ سو اسی میں اُچ شریف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صاحب مسجد کے امام تھے اور مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بلّھے شاہ نے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کے بعد قصور جا کر قرآن، حدیث، فقہ اور منطق میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی لیکن ایک خاص سطح تک حصولِ علم کے بعد ان پر انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کے علم کو حاصل کر کے بھی انسان کا دل مطمئن نہیں ہوسکتا۔ سکونِ قلب کے لیے صرف اللہ کا تصور ہی کافی ہے۔ اپنی ایک کافی میں فرماتے ہیں: بلّھے شاہ کو ملاّ کے تصورِ دین سے سخت نفرت ہوچکی تھی۔ عربی فارسی میں عالم ہونے کے باوجود انہوں نے پنجابی کو ذریعۂ اظہار بنایا تاکہ عوام سے رابطے میں آسکیں۔ وہ خود سیّد زادے تھے لیکن انہوں نے شاہ عنایت کے ہاتھ پر بیعت کی جو ذات کے آرائیں تھے اس طرح بلّھے شاہ نے ذات پات، فرقے اور عقیدے کے سب بندھن توڑ کر صلح کل کا راستہ اپنایا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب سنہ سترہ سو اٹھاون میں ان کا انتقال ہوا تو شہر کے مولویوں نے ان کا جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ بابا بلّھے شاہ کا کلام: عشق کی نویوں نویں بہار جاں میں سبق عشق دا پڑھیا بید قراناں پڑھ پڑھ تھکّے عمرگوائی وچ مسیتی | اسی بارے میں ’خدمت خلق کے لیے اقتدار سے قربت‘26 February, 2007 | پاکستان ’بلھا‘ کو کتابی شکل مل گئی30 May, 2005 | پاکستان بلھے شاہ عرس، بھارتی وفد کی آمد26 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||