’بلھا‘ کو کتابی شکل مل گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہد محمود ندیم کا سٹیج پلے ’بلھا‘ اب کتاب کی شکل میں بھی دستیاب ہے۔ شاید اسے حالات کی ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کہ اس پاکستانی کھیل کو شائع کرنے کا اعزاز پہلے بھارت نے حاصل کیا جہاں یہ گورمکھی رسم الخط میں پچھلے سال شائع ہو گیا تھا اور پٹیالہ یونیورسٹی نے اسے پنجابی تدریس کے کورس میں بھی شامل کر لیا تھا۔ اب یہ کھیل اُردو رسم الخط میں بھی میسّر ہے۔ پاکستانی ایڈیشن کی رسمِ اِجراء کے موقع پر اُردو کے معروف ادیب انتظار حسین مہمانِ خصوصی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ سٹیج پر وہ اس کھیل کو کئی بار دیکھ چُکے ہیں لیکن کئی باتیں جو کھیل کی روا روی میں اُن کے سر سے گُزر جاتی تھیں، اب تحریری صورت میں اس کی مکمل گرفت میں آگئی ہیں۔ انتظار صاحب اُردو اور انگریزی کے صاحبِ طرز ادیب ہیں اور ہندی بھی جانتے ہیں۔ ’بلھا‘ پر اپنا تبصرہ پیش کر کے گویا انھوں نے اپنی لسانی کلغی میں مزید ایک پر کا اضافہ کر لیا ہے۔ کتاب کی رونمائی کے موقع پر کھیل ’بلھا‘ ایک بار پھر سٹیج کیا گیا۔ بھارت سے آئے ہوئے مہمانوں سمیت سبھی حاضرین نے حسب ِسابق اِسے دل کھول کر داد دی۔ اس موقع پر حاضرین کو ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں کھیل ’بلھا‘ کی دنیا کے مختلف شہروں میں نمائش کا احوال فلمایا گیا تھا۔
کتاب ’بلھا‘ چونکہ پہلے بھارت میں شائع ہوئی اس لئے مقدمے، تقریظیں اور تعارف وغیرہ لکھنے کا تمام تر اعزاز بھارتی دانش وروں کو حاصل ہوا ہے چنانچہ کھیل کے متن سے پہلے مصنّف کا تعارف اروند کول دھالی وال نے کرایا ہے۔ اس کے بعد پنجابی ادبی اکادمی لُدھیانہ کے جنرل سیکرٹری رونید بھٹل نے تھیٹر گروپ ’اجوکا‘ کے بارے میں ایک مضمون پیش کیا ہے۔ پاکستان کے پنجابی ناٹک کا ایک عمومی تعارف امرتسر کے ہربھجن سنگھ باٹھیا نے کرایاہے اور کھیل ’بلھا‘ کا تاریخی پس منظر ڈاکٹر گور اقبال سنگھ نے پیش کیا ہے۔ ان کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ کے ڈاکٹر سکھ دیو سنگھ نے بھی بلھے شاہ اور ان کے کلام پر اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ اس کتاب کے تعارفی مضامین میں صرف ایک پاکستانی نام ہے، فخر زمان جو اس تھیٹر گروپ کے بارے میں کہتے ہیں: جدوں تاریخ لکھی جائے گی تدوں ’ اجوکا تھیٹر‘ ناظرین کے سامنے کھیل شروع کرنے سے پہلے مصّنف شاہد محمود نے بتایا کہ ’بلھا‘ ملاوّں کی بنیاد پرستی کے خلاف بغاوت کی ایک علامت ہے۔ ملاوّں نے بلھے کو ملحد اور کافر قرار دے کر اس کی میّت کو قصور کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بلھے کو شہر سے باہر دفنا دیاگیا لیکن آج کا شہر قصور بلھے ہی کے مزار کے گرد آباد ہے۔ کھیل کی ڈائریکٹر اور شاہد محمود کی اہلیہ مدیحہ گوہر نے بتایا کہ بندہ سنگھ بیراگی نامی سکھ شدت پسند سکھوں پر ہونے والے مغلوں کے مظالم کا بدلہ لینے کے لئے خود ظلم کی آندھی بن کر علاقے پر چھا گیا تھا اور اُس نے بستیوں کی بستیاں اجاڑ ڈالی تھیں۔ جبکہ بلھے شاہ پیار محبت بھائی چارے اور عدم تشّدد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔
دو متضاد رویّے رکھنے والی یہ دو متصادم شخصیات اگرچہ ہم عصر تھیں لیکن تاریخی طور پر ان کی ملاقات کا ثبوت نہیں ملتا۔ تاہم ’بلھا‘ کے مصنّف نے ڈرامائی رعایت کا استعمال کرتے ہوئے ان دونوں کا آمنا سامنا کرایا ہے بلکہ اس تصادم اور تضاد سے پورا پورا ڈرامائی فائدہ حاصل کیا ہے۔ ڈرامے کا کتابی روپ اگرچہ پاکستان میں منظرِ عام پر آیا ہے لیکن اس پر بھارت کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ یہ کسی ہندوستانی کتاب کا اُردو ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔ اجوکا پبلیکیشنز سے توقع رکھنی چاہیئے کہ وہ اگلے ایڈیشن میں کچھ پاکستانی لکھاریوں کے خیالات بھی شائع کریں گے۔ کتابوں کی مہنگائی کے اس دور میں اتنی اچھی طباعت اور کتابت سے آراستہ، رنگین تصویروں سے مزیّن اور مجلّد کتاب کو صرف ڈیڑھ سو روپے میں عوام کے سامنے پیش کر کے اجوکا والوں نے واقعی ادب و فن کی عظیم خدمت انجام دی ہے جس کے لئے ادارے کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||