BBC بلیٹنز:حکمِ امتناعی میں توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ حکم امتناعی عدالت نے بی بی سی پاکستان اور مقامی ایف ایم چینل مست 103 کی جانب سے داخل کردہ اپیلوں پر جاری کر رکھا ہے جس میں سرکاری پابندی کو غیرقانونی اور کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ جسٹس ضیاء پرویز پر مشتمل سنگل بینچ ان اپیلوں کی سماعت کررہی ہے۔ جمعہ کو ان اپیلوں کی مختصر سماعت کے بعد عدالت نے شنوائی 18 ستمبر تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت تک عبوری حکم امتناع برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ بی بی سی پاکستان کے پانچ منٹ دورانیے کے خبرنامے 22 جون 2007ء سے مست ایف ایم 103 پرآزمائشی بنیاد پر نشر ہونا شروع ہوئے تھے تاہم پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ایک ہفتے بعد ہی 30 جون کو یہ آزمائشی نشریات بند کرادی تھیں۔ یہ خبرنامے ایف ایم 103 کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں نشر کیے جارہے تھے۔ اپنی اپیلوں میں بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 نے کہا ہے کہ مختصر دورانیے کے خبرنامے دونوں اداروں کے مابین ایک تحریری معاہدے کے تحت نشر ہونا شروع ہوئے تھے جس کی پیمرا نے منظوری دی تھی تاہم پیمرا نے ایک حکم کے تحت ان پر پابندی عائد کردی جو کہ اظہار رائے، صحافت اور تجارت کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیمرا اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے میں مداخلت نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں اور اگر اسے ان بلیٹنز پر کوئی اعتراض تھا تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ |
اسی بارے میں حکمِ امتناعی میں مزید توسیع10 August, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:حکمِ امتناعی میں توسیع08 August, 2007 | پاکستان بی بی سی خبرنامہ، سماعت جاری06 August, 2007 | پاکستان حکم امتناعی میں توسیع03 August, 2007 | پاکستان ’BBCبلیٹنز روکنا امتیازی کارروائی‘02 August, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:پابندی پر حکمِ امتناعی17 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||