پیمرا: BBC اپیل کی سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کو مست ایف ایم 103 پر بی بی سی کے خبرناموں پر پیمرا کی پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے بی بی سی پاکستان اور مست ایف 103 کی اپیلوں کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی ہے۔ جسٹس ضیاء پرویز پر مشتمل ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے جمعرات کو اپیلوں کی سماعت شروع کی تو الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کے وکلاء ناصر ایاز اور کاشف حنیف نے اپیلوں کے قابل سماعت ہونے کو چیلنج کیا جس پر اپیل کنندگان کے وکیل عدنان چودھری نے اپیلوں کے حق میں دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 نے پیمرا کی منظوری سے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت یہ بلیٹنز نشر ہونا شروع ہوئے تھے تاہم کچھ ہی دن بعد پیمرا نے ایک دوسرے حکم کے تحت ایف ایم 103 کو بی بی سی کے بلیٹنز نشر کرنے سے روک دیا جو کہ اختیارات سے تجاوز اور صحافت اور قانونی تجارت کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ دونوں فریقین کے وکلاء نے عدالت کو الگ الگ درخواستیں دیکر استدعا کی کہ وہ عدالت کو مست ایف ایم 103 پر نشر ہونے والے بی بی سی کے بلیٹن کی ریکارڈنگ سنوانا چاہتے ہیں۔ جسٹس ضیاء پرویز نے اپنے حکم میں کہا کہ جب عدالت نے ضروری سمجھا تو ریکارڈنگ سنوائی جاسکتی ہے۔ عدالت نے اپیلوں کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی اور پابندی کے خلاف حکم امتناع برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ پیمرا نے 30 جون 2007ء کو ایف ایم 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کرادی تھیں۔ پانچ منٹ دورانئے کے یہ بلیٹنز 22 جون سے ایف ایم 103 کے ذریعے پاکستان کےچار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں نشر ہونا شروع ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں بی بی سی کیس: پیمرا دلائل مکمل07 August, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:حکمِ امتناعی میں توسیع08 August, 2007 | پاکستان بی بی سی خبرنامہ، سماعت جاری06 August, 2007 | پاکستان حکمِ امتناعی میں مزید توسیع10 August, 2007 | پاکستان بی بی سی کی ایف ایم نشریات بند30 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||