BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 August, 2007, 05:28 GMT 10:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکمِ امتناعی میں مزید توسیع

سندھ ہائیکورٹ
اپیلوں کی سماعت کی تاریخ رجسٹرار برانچ کی جانب سے مقرر کی جائےگی۔
سندھ ہائی کورٹ نے مقامی ریڈیو’مست ایف ایم 103‘ پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز نشر کرنے پر پیمرا کی پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناعی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی ہے۔

بی بی سی پاکستان اور’مست ایف ایم 103‘ نے اپنے بلیٹنز کی پابندی کے خلاف عدالت میں اپیلیں دائر کی ہوئی ہیں ۔

سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس مسز قیصر اقبال کے پاس جمعہ کو ان اپیلوں کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ان اپیلوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے حکومتی پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناعی برقرار رکھا اور سماعت ملتوی کر دی۔

اب ان اپیلوں کی سماعت کی تاریخ رجسٹرار برانچ کی جانب سے مقرر کی جائےگی۔ اس سے قبل یہ اپیلیں جسٹس عزیز اللہ میمن کی عدالت میں زیر سماعت تھیں جن کی خدمات سکھر ہائی کورٹ کے حوالے کی گئی ہیں۔

ملک میں ذرائع ابلاغ کے اداروں کو کنٹرول کرنے والے ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو نجی ایف ایم چینل مست 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کرا دی تھیں۔ پانچ منٹ دورانیے کے یہ بلیٹنز 22 جون سے مست ایف ایم 103 کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں نشر ہونے شروع ہوئے تھے۔

جسٹس عزیز اللہ میمن کی عدالت میں بی بی سی اور’مست ایف ایم 103‘ کے وکیل عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے۔ عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بی بی سی پاکستان کے بلیٹن پیمرا کی منظوری کے بعد مست ایف ایم 103 پر نشر کیے جا رہے تھے، جسے اب پیمرا نے روک دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان بلیٹنز کو نشر کرنے سے پیمرا آرڈیننس دو ہزار چھ اور مست ایف ایم 103 کے لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔ پیمرا کی یہ پابندی اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ نے ہندوستان اور پاکستان کے قوانین اور عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے دیے اور عدالت کو بتایا کہ پیمرا بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 کے معاہدہ میں مداخلت نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو بی بی سی کے بلیٹنز پر اعتراض تھا تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا اور انہیں اپنے طور پر بلیٹنز روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

پیمرا نے اس اپیل کے خلاف دائر اپنے موقف میں کہا ہے کمپنی کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہے۔ ایف ایم 103 اور بی بی سی کے وکیل نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے شیئرز ہولڈرز ہوتے ہیں جو شہری ہوتے ہیں اس لیے کمپنی کے بھی بنیادی حقوق ہیں اور پیمرا نے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔

عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ کا موقف تھا کہ میڈیا کا کام خبر دینا ہے اور اگر اس کو اسی کام سے روکا جائے تو پھر اس کی حیثیت اور اہمیت کیا رہ جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیمرا جب کسی ایف ایم کو کسی شہر کے لیے لائسنس جاری کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس چینل کی فریکوئنسی اس شہر کی حدود تک رہے گی نہ یہ کہ صرف اسی شہر کی خبریں نشر ہوں گی۔

نمایاں کوریج
اخبارات میں نئے میڈیا قوانین کی نمایاں کوریج
صحافی احتجاج(فائل فوٹو)آزادی صحافت کا دن
پاکستان میں’چھ صحافی قتل، پچاس اغواء‘
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
صحافتی آزادیاظہار کی آزادی
پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے خراب
پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
اسی بارے میں
حکم امتناعی میں توسیع
03 August, 2007 | پاکستان
صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی
12 December, 2005 | پاکستان
بی بی سی اردو کی نشریات بند
15 November, 2005 | پاکستان
ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر
12 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد