BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکم امتناعی میں توسیع

مست 103
بی بی سی پاکستان کے وکیل پیر کو دلائل جاری رکھیں گے
سندھ ہائی کورٹ نے مقامی ریڈیو’مست ایف ایم 103‘ پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز کی نشریات پر پیمرا کی پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناعی میں مزید تین روز کی توسیع کر دی ہے۔

بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم نے اپنے بلیٹنز کی پابندی کے خلاف عدالت میں اپیلیں دائر کی ہوئی ہیں۔

جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن کے سامنے بی بی سی اور مست ایف ایم کے وکیل عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔

عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز پیمرا کی منظوری کے بعد مست ایف ایم 103 پر نشر کیے جارہے تھے جسے اب پیمرا نے روک دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان بلیٹنز کی نشریات سے پیمرا آرڈیننس دو ہزار چھ اور مست ایف ایم 103 کے لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔ پیمرا کی یہ پابندی اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

’پیمرا نے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کی‘
 اگر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کو بی بی سی کے بلیٹنز پر اعتراض تھا تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا، انہیں اپنے طور پر بلیٹنز روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ نے ہندوستان اور پاکستان کے قوانین اور عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے دیے اور عدالت کو بتایا کہ پیمرا بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 کے معاہدہ میں مداخلت نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کو بی بی سی کے بلیٹنز پر اعتراض تھا تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا، انہیں اپنے طور پر بلیٹنز روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

پیمرا نے اس اپیل کے خلاف دائر اپنے موقف میں کہا ہے کمپنی کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہے۔

عدنان آئی چوہدری نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے شیئرز ہولڈرز ہوتے ہیں جو شہری ہوتے ہیں اس لئے کمپنی کے بھی بنیادی حقوق ہیں اور پیمرا نے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔

انہوں نے جیو ٹی وی پر وائس آف امریکہ کے پروگرام کی نشریات کا حوالہ دیتے ہوئے پیمرا کے حکم کو امتیازی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کو پی ٹی وی کی خبریں نشر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں اورایف ایم ریڈیو کسی اور سے خبریں نہیں لے سکتے۔

ان کے مطابق اگر پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن سے ہی خبریں لینی ہیں تو پھر چینل کا کیا فائدہ، یہی خبریں تو ریڈیو پاکستان بھی نشر کر رہا ہے۔

عدنان آئی چوہدری ایڈووکیٹ کا موقف تھا کہ میڈیا کا کام ہے خبر دینا، اگر اس کو اسی سے روکا جائے تو پھر اس کی حیثیت اور اہمیت کیا رہ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا جب کسی ایف ایم کو کسی شہر کے لئے لائسنس جاری کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس چینل کی فریکوئنسی اس شہر کی حدود تک رہیں گی نہ یہ کہ صرف اسی شہر کی خبریں نشر ہوں گی۔

جسٹس عزیز اللہ میمن نے حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے سماعت پیر کی صبح تک ملتوی کردی۔ اس روز پیمرا کے وکیل اپنے دلائل دیں گے۔

پیمرا نے گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو نجی ایف ایم چینل مست 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کرا دی تھیں۔ پانچ منٹ دورانیے کے یہ بلیٹنز 22 جون سے مست ایف ایم 103 کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں نشر ہونے شروع ہوئے تھے۔

بی بی سی نشریات بند
پاکستان میں مست ایف ایم کو دھمکیاں
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
آرڈیننس کی واپسی
ترامیم کی واپسی پر متضاد اشارے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد