BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 August, 2007, 08:22 GMT 13:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی کیس: پیمرا دلائل مکمل

سندھ ہائیکورٹ
اپیل کنندگان نے اپنا مؤقف دہرایا کہ بی بی سی پاکستان اور ایف ایم 103 نے پیمرا کی اجازت سے بلیٹن نشر کرنا شروع کیے
سندھ ہائی کورٹ نے مقامی ایف ایم چینل پر بی بی سی کے بلیٹن نشر کرنے پر عائد سرکاری پابندی کے خلاف حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے اپیلوں کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی ہے۔

یہ اپیلیں مست ایف ایم 103 اور بی بی سی پاکستان نے داخل کر رکھی ہیں جس میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا یعنی پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ایف ایم 103 پر بی بی سی پاکستان کے مختصر دورانئے کے بلیٹن کی نشریات روکنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

منگل کو جسٹس عزیز اللہ میمن پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کی سنگل بینچ کے روبرو پیمرا کے وکلاء ناصر ایاز اور کاشف حنیف نے اپیلوں کے خلاف اپنے دلائل مکمل کر لیے اور عدالت سے استدعا کی کہ اپیلیں ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کردی جائیں۔

اپیل کنندگان کے وکیل عدنان آئی چوہدری نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بی بی سی پاکستان اور ایف ایم 103 نے پیمرا سے اجازت لینے کے بعد معاہدہ کیا جس کے تحت یہ بلیٹن نشر ہونا شروع ہوئے تاہم پیمرا نے ایک حکم کے تحت ان پر پابندی عائد کردی جو کہ اظہار رائے، صحافت اور تجارت کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے میں مداخلت نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں اور اگر اسے ان بلیٹنز پر کوئی اعتراض تھا تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

پیمرا کے وکلاء نے کہا کہ اپیل کنندگان کے وکیل پیمرا کے جس لیٹر کی بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ بلیٹن پیمرا کی اجازت سے نشر ہونا شروع ہوئے وہ مجاز اتھارٹی نے نہیں بلکہ ایک افسر نے لکھا تھا اور وہ اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں تھا۔

عدنان چوہدری نے کہا کہ پیمرا نے جس لیٹر کے تحت معاہدے کی اجازت دی تھی وہ پیمرا کے قانونی مشیر نے لکھا تھا جبکہ بلیٹن بند کرنے کا حکم نامہ ایک جونئر افسر نے لکھا تھا تاہم اس کے اختتام پر یہ جملہ ہے کہ ’وہ لیٹر مجاز اتھارٹی کی منظوری سے لکھا گیا ہے جس سے پیمرا حکام کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بلیٹن روک کر پیمرا ایک ایسے معاہدے میں مداخلت کررہا ہے جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کا یہ اقدام اس کے اس کردار کا حصہ ہے جو وہ اسٹیبلشمینٹ کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوکر ادا کرتا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ جب چاہتی ہے پیمرا کو صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے اور صرف بی بی سی نہیں بلکہ آج ٹی وی، رائل ٹی وی اور میڈیا کے دیگر اداروں کو بھی پیمرا سے شکایات ہیں۔

نمایاں کوریج
اخبارات میں نئے میڈیا قوانین کی نمایاں کوریج
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
صحافتی آزادیاظہار کی آزادی
پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے خراب
پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
صحافی احتجاج(فائل فوٹو)آزادی صحافت کا دن
پاکستان میں’چھ صحافی قتل، پچاس اغواء‘
اسی بارے میں
حکم امتناعی میں توسیع
03 August, 2007 | پاکستان
صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی
12 December, 2005 | پاکستان
بی بی سی اردو کی نشریات بند
15 November, 2005 | پاکستان
ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر
12 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد