BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 August, 2007, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
BBC بلیٹنز:حکمِ امتناعی میں توسیع

سندھ ہائیکورٹ
جمعہ کو اپیلوں کی سماعت نئے سرے سے کوئی نئے جج کریں گے
سندھ ہائی کورٹ نے مقامی ایف ایم چینل مست ایف ایم 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز نشر کرنے پر عائد سرکاری پابندی کے خلاف اپیلوں کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ اپیلیں مست ایف ایم 103 اور بی بی سی پاکستان نے داخل کر رکھی ہیں جس میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا (پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) کی جانب سے ایف ایم 103 پر بی بی سی پاکستان کے مختصر دورانیے کے بلیٹن کی نشریات روکنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن کی عدالت میں بدھ کو ان اپیلوں کی سماعت ہوئی جس دوران جسٹس عزیز اللہ میمن نے وکلاء کو بتایا کہ وقت کی کمی کے باعث وہ فیصلہ نہیں کر سکے۔

انہوں نے بی بی سی بلیٹنز نشر کرنے پر عائد سرکاری پابندی کے خلاف حکم امتناعی برقرار رکھا اور سماعت جمعہ کی صبح تک ملتوی کردی۔ اس روز ان اپیلوں کی سماعت نئے سرے سے کوئی نئے جج کریں گے۔ واضح رہے کہ جسٹس عزیز اللہ میمن نے وکلاء کو یہ پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ اب وہ اپنی ذمہ داریاں سکھر میں سرانجام دیں گے۔

اس سے قبل منگل کے روز پیمرا کے وکلاء ناصر ایاز اور کاشف حنیف نے اپیلوں کے خلاف اپنے دلائل مکمل کر لیے اور عدالت سے استدعا کی کہ اپیلیں ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کردی جائیں۔

پیمرا کے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ اپیل کنندگان کے وکیل پیمرا کے جس خط کی بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ بلیٹن پیمرا کی اجازت سے نشر ہونا شروع ہوئے وہ مجاز اتھارٹی نے نہیں بلکہ ایک افسر نے لکھا تھا اور وہ اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں تھا۔

اس سے قبل اپیل کنندگان کے وکیل عدنان آئی چوہدری نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ بی بی سی پاکستان اور ایف ایم 103 نے پیمرا سے اجازت لینے کے بعد معاہدہ کیا جس کے تحت یہ بلیٹن نشر ہونا شروع ہوئے تاہم پیمرا نے ایک حکم کے تحت ان پر پابندی عائد کردی جو کہ اظہار رائے، صحافت اور تجارت کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے میں مداخلت نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں اور اگر اسے ان بلیٹنز پر کوئی اعتراض تھا تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

نمایاں کوریج
اخبارات میں نئے میڈیا قوانین کی نمایاں کوریج
صحافی احتجاج(فائل فوٹو)آزادی صحافت کا دن
پاکستان میں’چھ صحافی قتل، پچاس اغواء‘
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
صحافتی آزادیاظہار کی آزادی
پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے خراب
پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
اسی بارے میں
حکم امتناعی میں توسیع
03 August, 2007 | پاکستان
صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی
12 December, 2005 | پاکستان
بی بی سی اردو کی نشریات بند
15 November, 2005 | پاکستان
ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر
12 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد