BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 08:36 GMT 13:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی خبرنامہ، سماعت جاری

سندھ ہائیکورٹ
پیمرا کے وکیل نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ وہ اپنے دلائل منگل کو مکمل کرلینگے
سندھ ہائی کورٹ نے مقامی ایف ایم چینلز پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز کی نشریات پر سرکاری پابندی کے خلاف کی گئی اپیلوں پر حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے سماعت منگل (سات اگست) تک ملتوی کردی ہے۔

یہ اپیلیں مست ایف ایم 103 اور بی بی سی پاکستان نے دائر کر رکھی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن نے پیر کو اپیلوں کی سماعت اپنے چیمبر میں کی، جس کے دوران پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے وکیل ناصر ایاز اور کاشف نے اپیلوں کے خلاف دلائل دیئے۔

انہوں نے پیمرا کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ ایف ایم 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز نشر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں پیمرا نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم اپیل کنندگان کا مؤقف ہے کہ پیمرا کی اجازت سے مختصر دورانیے کے بلیٹنز نشر ہونا شروع ہوئے تھے جنہیں غیرقانونی طور پر روکا گیا ہے۔

اپیل کنندگان کے وکیل عدنان چوہدری نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پیمرا کا اقدام اظہار رائے اور آزادیِ صحافت کی خلاف ورزی ہے، جس کی آئین کے آرٹیکل 19 میں ضمانت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادیِ صحافت میں اطلاعات دینے کے ساتھ ساتھ اطلاعات لینے کا حق بھی شامل ہے۔

کوئی نئی بات نہیں
 ایف ایم 103 بی بی سی پاکستان سے بالکل اسی طرح خبروں پر مبنی پروگرام لے رہا ہے جس طرح پی ٹی وی یا دوسرے ٹی وی چینلز مختلف پروڈکشن ہاؤسز سے ڈرامے یا دوسرے پروگرام لےکر نشر کرتے ہیں
ایڈووکیٹ عدنان چودھری

پیمرا کے وکیل ناصر ایاز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ براڈ کاسٹنگ بنیادی حقوق میں شامل نہیں اور اس کا اظہار رائے کے حق سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے اپنے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ بی بی سی ایک غیرملکی ادارہ ہے اور چونکہ ملکی میڈیا ابھی ترقی پذیر ہے لہذا کسی غیرملکی میڈیا کو ملک میں نشریات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بی بی سی کا موقف ہے کہ مست ایف ایم 103 پر پانچ منٹ کے بلیٹنز کی نشریات کے لیے پیمرا کی جن شرائط کو پورا کیا ان میں خود کو پاکستان میں مقامی کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ کرانا بھی شامل تھا۔

پیمرا کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ایف ایم 103 اپنا ائر ٹائم بی بی سی کو فروخت کررہا ہے، جو کہ غیرقانونی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بی بی سی کے پاس بڑا پیسہ ہے اور مست ایف ایم 103 تو محض شروعات ہیں، بی بی سی اسی طرح دوسرے ایف ایم چینلز کا بھی ائر ٹائم خریدنا چاہتا ہے۔‘

واضح رہے کہ اپیل کنندگان کے وکیل اپنے دلائل میں یہ کہہ چکے ہیں کہ بی بی سی نے ایف ایم 103 کا ائر ٹائم نہیں خریدا بلکہ ایف ایم 103 بی بی سی پاکستان سے بالکل اسی طرح خبروں پر مبنی پروگرام لے رہا ہے جس طرح پی ٹی وی یا دوسرے ٹی وی چینلز مختلف پروڈکشن ہاؤسز سے ڈرامے یا دوسرے پروگرام لےکر نشر کرتے ہیں اور اس پر قانون کے تحت کوئی پابندی نہیں ہے۔

پیمرا کے وکیل نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ وہ اپنے دلائل منگل کو مکمل کرلینگے۔ عدالت نے حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے سماعت منگل کی صبح نو بجے تک ملتوی کردی ہے۔

نمایاں کوریج
اخبارات میں نئے میڈیا قوانین کی نمایاں کوریج
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
صحافتی آزادیاظہار کی آزادی
پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے خراب
پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
مست ایف ایمنہیں چلنے دیں گے
بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی
صحافی احتجاج(فائل فوٹو)آزادی صحافت کا دن
پاکستان میں’چھ صحافی قتل، پچاس اغواء‘
اسی بارے میں
حکم امتناعی میں توسیع
03 August, 2007 | پاکستان
صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی
12 December, 2005 | پاکستان
بی بی سی اردو کی نشریات بند
15 November, 2005 | پاکستان
ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر
12 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد