بی بی سی خبرنامہ، سماعت جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے مقامی ایف ایم چینلز پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز کی نشریات پر سرکاری پابندی کے خلاف کی گئی اپیلوں پر حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے سماعت منگل (سات اگست) تک ملتوی کردی ہے۔ یہ اپیلیں مست ایف ایم 103 اور بی بی سی پاکستان نے دائر کر رکھی ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز اللہ میمن نے پیر کو اپیلوں کی سماعت اپنے چیمبر میں کی، جس کے دوران پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے وکیل ناصر ایاز اور کاشف نے اپیلوں کے خلاف دلائل دیئے۔ انہوں نے پیمرا کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ ایف ایم 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز نشر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں پیمرا نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم اپیل کنندگان کا مؤقف ہے کہ پیمرا کی اجازت سے مختصر دورانیے کے بلیٹنز نشر ہونا شروع ہوئے تھے جنہیں غیرقانونی طور پر روکا گیا ہے۔ اپیل کنندگان کے وکیل عدنان چوہدری نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پیمرا کا اقدام اظہار رائے اور آزادیِ صحافت کی خلاف ورزی ہے، جس کی آئین کے آرٹیکل 19 میں ضمانت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادیِ صحافت میں اطلاعات دینے کے ساتھ ساتھ اطلاعات لینے کا حق بھی شامل ہے۔
پیمرا کے وکیل ناصر ایاز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ براڈ کاسٹنگ بنیادی حقوق میں شامل نہیں اور اس کا اظہار رائے کے حق سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اپنے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ بی بی سی ایک غیرملکی ادارہ ہے اور چونکہ ملکی میڈیا ابھی ترقی پذیر ہے لہذا کسی غیرملکی میڈیا کو ملک میں نشریات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بی بی سی کا موقف ہے کہ مست ایف ایم 103 پر پانچ منٹ کے بلیٹنز کی نشریات کے لیے پیمرا کی جن شرائط کو پورا کیا ان میں خود کو پاکستان میں مقامی کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ کرانا بھی شامل تھا۔ پیمرا کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ ایف ایم 103 اپنا ائر ٹائم بی بی سی کو فروخت کررہا ہے، جو کہ غیرقانونی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بی بی سی کے پاس بڑا پیسہ ہے اور مست ایف ایم 103 تو محض شروعات ہیں، بی بی سی اسی طرح دوسرے ایف ایم چینلز کا بھی ائر ٹائم خریدنا چاہتا ہے۔‘ واضح رہے کہ اپیل کنندگان کے وکیل اپنے دلائل میں یہ کہہ چکے ہیں کہ بی بی سی نے ایف ایم 103 کا ائر ٹائم نہیں خریدا بلکہ ایف ایم 103 بی بی سی پاکستان سے بالکل اسی طرح خبروں پر مبنی پروگرام لے رہا ہے جس طرح پی ٹی وی یا دوسرے ٹی وی چینلز مختلف پروڈکشن ہاؤسز سے ڈرامے یا دوسرے پروگرام لےکر نشر کرتے ہیں اور اس پر قانون کے تحت کوئی پابندی نہیں ہے۔ پیمرا کے وکیل نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ وہ اپنے دلائل منگل کو مکمل کرلینگے۔ عدالت نے حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے سماعت منگل کی صبح نو بجے تک ملتوی کردی ہے۔ |
اسی بارے میں حکم امتناعی میں توسیع03 August, 2007 | پاکستان ’BBCبلیٹنز روکنا امتیازی کارروائی‘02 August, 2007 | پاکستان بی بی سی کی ایف ایم نشریات بند30 June, 2007 | پاکستان صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی12 December, 2005 | پاکستان بی بی سی اردو کی نشریات بند15 November, 2005 | پاکستان ایف ایم 103 کا دفتر سربمہر 12 November, 2004 | پاکستان مست ’ٹیم‘ کا چودہ روز کا ریمانڈ10 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||