’CNN پر پابندی نہیں،BBC بلیٹنز پر کیوں؟‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ضیا پرویز نے مقامی ریڈیو’مست ایف ایم 103‘ پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز نشر کرنے پر پیمرا کی پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناعی میں چھ ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔ بی بی سی پاکستان اور’مست ایف ایم 103‘ نے اپنے بلیٹنز کی پابندی کے خلاف عدالت میں اپیلیں دائر کی ہوئی ہیں۔ جمعہ کوجسٹس ضیا پرویز کی عدالت میں بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 کے وکیل عدنان آئی چودھری نے اپنے دلائل جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا کا یہ کہنا ہے کہ ایف ایم 103 نے لائسنس شرائط کی خلاف ورزی کی ہے سراسر غلط ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل 19 اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اگر اس آزادی پر کوئی پابندی عائد ہوسکتی ہے تو وہ بھی اسی آرٹیکل میں موجود ہے۔ جسٹس ضیا پرویز نے سوال کیا کہ جب بی بی سی ورلڈ اور سی این این کی نشریات کو نہیں روکا جاتا تو ایف ایم 103 پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز کو کیوں روکا جارہا ہے۔ چھ ستمبر کو بی بی سی پاکستان اور پیمرا کے وکلا اسی نقطے پر دلائل دیں گے۔ ملک میں ذرائع ابلاغ کے اداروں کو کنٹرول کرنے والے ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو نجی ایف ایم چینل مست 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کرا دی تھیں۔ پانچ منٹ دورانیے کے یہ بلیٹنز 22 جون سے مست ایف ایم 103 کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں نشر ہونے شروع ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں بی بی سی کیس: پیمرا دلائل مکمل07 August, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:حکمِ امتناعی میں توسیع08 August, 2007 | پاکستان بی بی سی خبرنامہ، سماعت جاری06 August, 2007 | پاکستان حکمِ امتناعی میں مزید توسیع10 August, 2007 | پاکستان بی بی سی کی ایف ایم نشریات بند30 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||