BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’CNN پر پابندی نہیں،BBC بلیٹنز پر کیوں؟‘

مست ایف ایم
پیمرا نے 30 جون 2007ء کو ایف ایم 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کرادی تھیں
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ضیا پرویز نے مقامی ریڈیو’مست ایف ایم 103‘ پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز نشر کرنے پر پیمرا کی پابندی کے خلاف عبوری حکم امتناعی میں چھ ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

بی بی سی پاکستان اور’مست ایف ایم 103‘ نے اپنے بلیٹنز کی پابندی کے خلاف عدالت میں اپیلیں دائر کی ہوئی ہیں۔

جمعہ کوجسٹس ضیا پرویز کی عدالت میں بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 کے وکیل عدنان آئی چودھری نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا کا یہ کہنا ہے کہ ایف ایم 103 نے لائسنس شرائط کی خلاف ورزی کی ہے سراسر غلط ہے کیونکہ آئین کا آرٹیکل 19 اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔

اگر اس آزادی پر کوئی پابندی عائد ہوسکتی ہے تو وہ بھی اسی آرٹیکل میں موجود ہے۔

جسٹس ضیا پرویز نے سوال کیا کہ جب بی بی سی ورلڈ اور سی این این کی نشریات کو نہیں روکا جاتا تو ایف ایم 103 پر بی بی سی پاکستان کے بلیٹنز کو کیوں روکا جارہا ہے۔ چھ ستمبر کو بی بی سی پاکستان اور پیمرا کے وکلا اسی نقطے پر دلائل دیں گے۔

ملک میں ذرائع ابلاغ کے اداروں کو کنٹرول کرنے والے ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو نجی ایف ایم چینل مست 103 پر بی بی سی کے بلیٹنز کی آزمائشی نشریات بند کرا دی تھیں۔ پانچ منٹ دورانیے کے یہ بلیٹنز 22 جون سے مست ایف ایم 103 کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں نشر ہونے شروع ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد