بلیٹنز: اگلی پیشی 31 اکتوبر کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کے مختصر دورانیے کے خبرناموں کی نشریات پر سرکاری پابندی کے خلاف عبوری حکمِ امتناعی میں اکتیس اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ یہ حکم امتناعی عدالت نے بی بی سی پاکستان اور مقامی ایف ایم چینل مست 103 کی جانب سے داخل کردہ اپیلوں پر جاری کر رکھا ہے جس میں سرکاری پابندی کو غیرقانونی اور کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ جسٹس ضیاء پرویز پر مشتمل سنگل بینچ ان اپیلوں کی سماعت کر رہا ہے۔ منگل کو ان اپیلوں کی مختصر سماعت کے بعد عدالت نے شنوائی اکتیس اکتوبر تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت تک عبوری حکم امتناعی برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ بی بی سی پاکستان کے پانچ منٹ دورانیے کے خبرنامے 22 جون 2007ء سے مست ایف ایم 103 پر آزمائشی بنیاد پر نشر ہونا شروع ہوئے تھے تاہم پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ایک ہفتے بعد ہی 30 جون کو یہ آزمائشی نشریات بند کرا دی تھیں۔ یہ خبرنامے ایف ایم 103 کے ذریعے پاکستان کے چار بڑے شہروں کراچی، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں نشر کیے جا رہے تھے۔ اپنی اپیلوں میں بی بی سی پاکستان اور مست ایف ایم 103 نے کہا ہے کہ مختصر دورانیے کے خبرنامے دونوں اداروں کے مابین ایک تحریری معاہدے کے تحت نشر ہونا شروع ہوئے تھے جس کی پیمرا نے منظوری دی تھی تاہم پیمرا نے ایک حکم کے تحت ان پر پابندی عائد کردی جو کہ اظہار رائے، صحافت اور تجارت کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیمرا اپیل کنندگان کے مابین ہونے والے معاہدے میں مداخلت نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں اور اگر اسے ان بلیٹنز پر کوئی اعتراض تھا تو اسے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ | اسی بارے میں BBC بلیٹنز: حکم امتناعی میں توسیع26 September, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:اگلی سماعت26ستمبرکو18 September, 2007 | پاکستان BBC بلیٹنز:حکمِ امتناعی میں توسیع07 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||